دنیا بھر میں سنیما انڈسٹری کو درپیش مشکلات کے درمیان یوٹیوب سے ابھرنے والے نوجوان ہدایتکاروں نے فلمی دنیا میں نئی جان ڈال دی ہے۔ امریکہ میں ریلیز ہونے والی دو فلمیں "بیک رومز” اور "آبسیشن” باکس آفس پر غیر معمولی کامیابی حاصل کر کے سب کی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔
صرف 20 سالہ ہدایتکار کین پارسنز کی فلم "بیک رومز” نے محض ایک ہفتے میں 150 ملین ڈالر سے زائد کا کاروبار کر لیا، جبکہ 26 سالہ کری بارکر کی ہدایت کاری میں بننے والی "آبسیشن” تین ہفتوں میں 170 ملین ڈالر کا ہندسہ عبور کر چکی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ دونوں ہدایتکاروں نے اپنے سفر کا آغاز یوٹیوب سے کیا تھا۔
فلمی ماہرین کے مطابق یوٹیوب کے ساتھ پروان چڑھنے والی نسل اب بالغ ہو چکی ہے اور سنیما گھروں کی سب سے بڑی ناظرین بن گئی ہے۔ امریکی پروڈکشن کمپنیوں نے اس تبدیلی کو بروقت سمجھتے ہوئے ان نوجوان تخلیق کاروں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا، جس کے نتیجے میں کم بجٹ میں بننے والی فلموں نے بڑے بڑے ہالی ووڈ منصوبوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔
ترکیہ میں بھی ان دونوں فلموں کو غیر معمولی پذیرائی ملی ہے۔ "بیک رومز” اپنے پہلے ہی ہفتے میں باکس آفس کی سرفہرست فلم بن گئی، جبکہ "آبسیشن” محدود سنیما گھروں میں نمائش کے باوجود ہزاروں شائقین کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یوٹیوب اور سوشل میڈیا محض تفریحی پلیٹ فارم نہیں رہے بلکہ یہ نئی نسل کے فلم سازوں کے لیے ایک مضبوط لانچنگ پیڈ ثابت ہو رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز مستقبل میں خوف، تھرلر اور مختصر سیریز جیسے مخصوص شعبوں میں فلمی صنعت کے لیے نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔
اگرچہ یوٹیوب کو زیادہ تر مزاحیہ مواد سے جوڑا جاتا ہے، تاہم "بیک رومز” اور "آبسیشن” کی کامیابی نے ثابت کر دیا ہے کہ سوشل میڈیا سے ابھرنے والے تخلیق کار صرف کامیڈی ہی نہیں بلکہ عالمی معیار کی فلمیں بھی تخلیق کر سکتے ہیں، جو روایتی سنیما کے لیے ایک نئے دور کی نوید سمجھی جا رہی ہیں
