اسلامی تعاون یوتھ فورم ( آئی سی وائے ایف) 6 سے 8 اپریل کو مسلمان خواتین کی عاملی کانفرنس کا انعقاد کر رہا ہے۔
مسلمان خواتین کی عاملی کانفرنس دنیا بھر سے کامیاب مسلم خواتین کا خیر مقدم کرئے گا۔
آن لائن کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں ترک وزیر خارجہ میلوت چاوش اولو بھی شرکت کریں گے۔
یہ کانفرنس 56 اسلامی ممالک میں 18 سے 35 سال کی عمر کی 600 ملین سے زیادہ نوجوان خواتین کے ساتھ کام کرتا ہے۔
یہ کانفرنس”21 ویں صدی کی ابھرتی ہوئی طاقت خواتین” کے موضوع کے ساتھ منعقد کیا جائے گا۔
کانفرنس میں امن کی نوبل انعام یافتہ توکل کارمان،یمن کی کارکن اعلی سالح، سوڈانی انقلاب کی علامت مونا دیاب، فیس بک کی مصنوعی ذہانت کی ٹیم میں مسلمان انجینئر عاشی یوسفی،ہماری لڑکیاں واپس لاو تحریک کی نائیجیرین کارکن سیما فاروقی اور پاکستان سے پہلی ایرو اسپیس انجینئر سارہ قریشی شامل ہونگی۔
کینیڈا میں پہلی بار ٹیلی ویزن شو ز پر حجاب پہنے والی جینیلا ماسا،ایران کی پہلی ٹریاتھون ایتھلیٹ شیرن گرامی، مسلم کونسل آف گریٹ برطانیہ کی پہلی خاتون رہنما زارا محمد،امریکہ میں حجاب کے ساتھ باسکٹ بال کھیلنے والی بلقیس عبدالکار اور امریکہ میں حجاب کے ساتھ ویٹ لیفٹینگ کا مقابالہ کرنے والی گلسم عبداللہ بھی کانفرنس سمٹ میں شامل ہونگی۔
ریما سلطانی ریمو اراکانی مہاجرین کو تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے لیے لڑ رہی ہیں، امریکہ فلمساز سما صفی اوبا علی خواتین کے حقوق کے لیے لڑ رہی ہیں یہ دونوں بھی مسلمان خواتین کی عاملی کانفرنس کا حصہ بنیں گی۔
سان فرانسسکو کی سرگرم کارکن زہرہ بولو، اسلامو فوبیا کے خاتمے مسلمانوں کو قانونی حق دلوانے کی کوشش کرنے والی فلمساز اعلا ہمدان بھیمسلمان خواتین کی عاملی کانفرنس میں شامل ہونگی۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے آئی سی وائے ایف کے صدر طاہا ایہان کا کہنا تھا کہ یہ فورم 2004 میں ترکی کے زیر انتظام تشکیل دیا گیا تھا، جس میں 56 ممالک کی 600 ملین خواتین نے شرکت کی۔
ایہان نے مزید کہا کہ اس فورم کا اصل مقصد نوجوان خواتین کو معاشی ترقی ، تعلیم ، اسلامی ثقافت اور تہذیب کی اہمیت سے روشناس کروانا ہے۔
انکا مزید کہنا تھا کہ یہ سمٹ ایسی نوجوان خاتون کو اکھٹا کرتا ہے جنہوں نے اپنی کوششوں سے زندگی کے مختلف شعبوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔
