Turkiya-Logo-top

2050 تک ہر سال 3 کروڑ 50 لاکھ افراد کینسر کا شکار ہوں گے! عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کر دیا

عالمی ادارۂ صحت اور انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر کی مشترکہ گلوبل اسٹیٹس رپورٹ آن کینسر 2026 میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مؤثر اور فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 2050 تک دنیا بھر میں ہر سال کینسر کے نئے مریضوں کی تعداد تقریباً 3 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں ہر سال 2 کروڑ 6 لاکھ سے زائد نئے کینسر کیسز سامنے آتے ہیں، جبکہ تقریباً ایک کروڑ افراد اس بیماری کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ کینسر دل کی بیماریوں کے بعد دنیا میں اموات کی دوسری بڑی وجہ ہے اور روزانہ 26 ہزار سے زائد افراد اس مرض سے انتقال کر جاتے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ کینسر صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ معاشی، سماجی اور ذہنی سطح پر بھی لاکھوں خاندانوں کو متاثر کر رہا ہے۔ ادارے کے پہلے عالمی سروے کے مطابق 45 فیصد سے زائد مریضوں کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، نصف سے زیادہ افراد ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل سے دوچار ہوتے ہیں، جبکہ مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والے تقریباً تمام افراد اضافی معاشی اور سماجی بوجھ برداشت کرتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں کینسر کے علاج اور سہولیات تک رسائی میں نمایاں عدم مساوات موجود ہے۔ اعلیٰ آمدنی والے ممالک میں بریسٹ کینسر کی تشخیص کے پانچ سال بعد 87 فیصد خواتین زندہ رہتی ہیں، جبکہ کم آمدنی والے ممالک میں یہ شرح صرف 42 فیصد ہے۔ اسی طرح دنیا کے ایک تہائی سے بھی کم ممالک نے کینسر کے علاج کو اپنی یونیورسل ہیلتھ کوریج کا حصہ بنایا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے کہا کہ کینسر تقریباً ہر خاندان کو کسی نہ کسی شکل میں متاثر کرتا ہے، لیکن کسی مریض کے زندہ رہنے کا انحصار اس کی آمدنی یا رہائش کے ملک پر نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں سامنے آنے والی عدم مساوات کو مؤثر پالیسیوں اور اجتماعی اقدامات کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2024 میں ایشیا دنیا کے 50.7 فیصد کینسر کیسز اور 56.5 فیصد اموات کا مرکز رہا، جبکہ یورپ دنیا کی صرف 9 فیصد آبادی رکھنے کے باوجود 21 فیصد کیسز اور 20 فیصد اموات کا حصہ دار تھا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ دنیا بھر میں تقریباً چار میں سے ایک نہیں بلکہ تقریباً ہر دس میں چار کینسر کیسز ایسے عوامل سے جڑے ہیں جن سے بچاؤ ممکن ہے۔ ان میں تمباکو نوشی، شراب نوشی، موٹاپا، جسمانی سرگرمی کی کمی، غیر صحت بخش غذا، فضائی آلودگی اور بعض انفیکشنز شامل ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ کینسر کی بروقت تشخیص، علاج، احتیاطی اقدامات، تحقیق اور عوامی آگاہی میں سرمایہ کاری بڑھائی جائے تاکہ آنے والے برسوں میں اس بیماری کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔

Read Previous

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مطابق کشیدگی میں کمی اور تحمل کا راستہ اختیار کیا جائے : اسحاق ڈار

Leave a Reply