کبھی کبھی زندگی میں پیش آنے والا ایک واقعہ انسان کو ایسی راہ پر ڈال دیتا ہے جس کا اسے خود بھی اندازہ نہیں ہوتا۔ گورکیم سین کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ آج وہ ترکیہ کے ان موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے صرف موسیقی بجانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ایک ایسا ساز بھی خود تیار کیا جو اپنی آواز کے اعتبار سے دنیا بھر کے لوگوں کے لیے حیرت کا باعث بنا۔ لیکن اس کہانی کی ابتدا کسی بڑے کنسرٹ یا میوزک اسٹوڈیو سے نہیں ہوئی تھی، بلکہ اس وقت ہوئی جب گورکیم سین صرف 13 برس کے تھے۔
ایک حادثے کے بعد سین تقریباً ایک سال تک جسمانی طور پر حرکت کرنے سے قاصر رہے۔ یہی وہ مشکل وقت تھا جس میں ان کا موسیقی سے تعلق مضبوط ہونا شروع ہوا۔ صحت یاب ہونے کے بعد انہوں نے اپنی بڑی بہن کا گٹار بجانا شروع کیا۔ ابتدا میں شاید یہ صرف وقت گزارنے یا ایک نئی دلچسپی کا معاملہ تھا، لیکن آہستہ آہستہ گٹار ان کے لیے محض ایک ساز نہیں رہا؛ یہ اظہار کا ذریعہ بن گیا۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
پھر ایک دن ایک دوست نے اپنا لکھا ہوا گانا انہیں سنایا۔ اس گانے نے سین کے ذہن میں ایک نیا سوال پیدا کیا: اگر کوئی شخص اپنی دھن اور اپنی موسیقی تخلیق کرسکتا ہے تو کیا وہ اپنی آواز بھی خود تلاش کرسکتا ہے؟ یہی سوال آگے چل کر ان کے پورے موسیقی کے سفر کی بنیاد بن گیا۔

وقت کے ساتھ گورکیم سین نے مختلف سازوں اور موسیقی کی تکنیکوں کے ساتھ تجربات شروع کردیے۔ انہوں نے الیکٹرانک آلات اور کمپیوٹرز کے ذریعے موسیقی بنانے کی کوشش کی، لیکن صرف موجودہ آلات سے انہیں وہ آواز نہیں مل رہی تھی جس کی وہ تلاش میں تھے۔ انہیں محسوس ہوا کہ اگر وہ واقعی کچھ نیا کرنا چاہتے ہیں تو شاید انہیں موجودہ سازوں کی حدود سے باہر نکلنا ہوگا۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
اسی تلاش نے انہیں دنیا کی مختلف تہذیبوں اور روایتی سازوں کی طرف متوجہ کیا۔ انہوں نے کئی برس تک مختلف علاقوں کے سازوں، ان کی ساخت اور ان سے پیدا ہونے والی آوازوں کا مطالعہ کیا۔ تقریباً چار سے پانچ برس کی اس تحقیق کے دوران ان کے ذہن میں ایک بنیادی خیال مضبوط ہوتا گیا: اگر موجودہ ساز مطلوبہ آواز نہیں دے رہے تو کیوں نہ ایک ایسا ساز بنایا جائے جو پہلے کبھی موجود ہی نہ ہو؟
یہ خیال آسان تھا، لیکن اسے حقیقت میں تبدیل کرنا انتہائی مشکل تھا۔

گورکیم سین نے نئے ساز بنانے کے تجربات شروع کیے۔ ایک کے بعد دوسرا نمونہ تیار ہوتا، اسے بجایا جاتا، اس کی آواز کو پرکھا جاتا اور پھر اس میں تبدیلی کی جاتی۔ بالآخر تقریباً 30 مختلف نمونوں پر تجربات کے بعد وہ اس ساز تک پہنچے جسے آج دنیا ’’یای باہار‘‘ (Yaybahar) کے نام سے جانتی ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
یای باہار کی خاص بات یہ ہے کہ اسے بجلی یا کسی الیکٹرانک نظام کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن اس کی آواز عام روایتی سازوں جیسی بھی نہیں۔ اس میں تاروں کی ارتعاشی حرکت مخصوص اسپرنگز کے ذریعے جھلیوں تک پہنچتی ہے۔ یہی عمل ایک گہری، گونج دار اور غیر معمولی آواز پیدا کرتا ہے۔ یوں سین نے صرف ایک نیا ساز نہیں بنایا بلکہ آواز پیدا کرنے کا ایک نیا طریقہ دریافت کیا۔
2012 میں یای باہار کی شکل واضح ہونے کے بعد بھی سین نے اس پر کام روک نہیں دیا۔ ان کے لیے یہ کوئی ایسی ایجاد نہیں تھی جسے مکمل کرکے ایک طرف رکھ دیا جائے۔ وہ مسلسل اس کی آواز، ساخت اور امکانات کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہے۔ ان کی اصل دلچسپی یہی تھی کہ یہ ساز ایسی آوازیں پیدا کرے جو پہلے کسی اور ساز سے سننے کو نہ ملی ہوں۔

پھر وہ وقت آیا جب دنیا کی توجہ اس عجیب و غریب ساز کی طرف مبذول ہوئی۔ 2015 میں امریکا میں منعقد ہونے والے ایک سازوں کے مقابلے میں گورکیم سین نے دو اعزازات حاصل کیے۔ اس کے بعد یای باہار کی ایک ویڈیو نے صرف ایک ہفتے میں 20 لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھی گئی۔ ایک ایسے ساز کے لیے جسے ایک موسیقار نے اپنی ذاتی تخلیقی جستجو کے دوران تیار کیا تھا، یہ غیر معمولی عالمی دلچسپی تھی۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
اس کے بعد گورکیم سین نے یای باہار کو دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچایا اور تقریباً 30 ممالک میں سولو پرفارمنسز پیش کیں۔ ان کی موسیقی نے یہ دکھایا کہ ایک شخص اگر کسی سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے مسلسل تجربہ کرتا رہے تو وہ کبھی کبھی ایسا نتیجہ بھی حاصل کرسکتا ہے جو پہلے کسی کے تصور میں نہ ہو۔
سین کا سفر یہاں بھی نہیں رکا۔ ان کے منفرد ساز اور موسیقی کی صلاحیتیں فلمی دنیا تک پہنچیں، جہاں انہوں نے ہانس زیمر اور میکس رِخٹر جیسے معروف موسیقاروں کے ساتھ فلمی اور دستاویزی موسیقی کے منصوبوں پر کام کیا۔ یوں ایک نوجوان، جس نے اپنی زندگی کے مشکل دور میں گٹار سے موسیقی کا سفر شروع کیا تھا، رفتہ رفتہ ایک ایسے موسیقار اور ساز ساز بن گئے جو اپنی آواز خود تخلیق کرتا ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
گورکیم سین کی کہانی دراصل صرف ایک موسیقار کی کہانی نہیں۔ یہ اس سوال کی کہانی ہے کہ جب انسان کو موجودہ راستوں میں اپنی منزل نظر نہ آئے تو وہ نیا راستہ کیسے بناتا ہے۔ سین نے بھی یہی کیا۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ دنیا میں ساز پہلے ہی بہت ہیں، بلکہ یہ سوچا کہ اگر مطلوبہ آواز موجود نہیں تو اسے پیدا کرنے کے لیے نیا ساز کیوں نہ بنایا جائے۔ یہی سوچ یای باہار کی بنیاد بنی، اور یہی وجہ ہے کہ آج گورکیم سین کا نام صرف موسیقی بجانے والے فنکار کے طور پر نہیں بلکہ نئی آوازوں کی تلاش کرنے والے ایک تخلیق کار کے طور پر بھی لیا جاتا ہے۔
