turky-urdu-logo

ترکی کے خواتین حقوق کے "استنبول کنونشن” سے دستبرداری پر مایوسی ہوئی، امریکی صدر جو بائیڈن

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ یورپی ممالک کے خواتین حقوق کے "استنبول کنونشن” سے ترکی کے دستبردار ہونے سے مایوسی ہوئی ہے۔

امریکی صدر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ترکی کے اس اچانک اور غیر ضروری فیصلے سے گہری مایوسی ہوئی ہے۔

امریکہ نے کہا ہے کہ ترکی سمیت دنیا بھر میں خواتین پر تشدد کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ خواتین پر تشدد کو ختم کرنے کے لئے مل کر کام کرنا ہو گا۔ یہ خواتین پر تشدد کے خاتمے کی بین الاقوامی تحریک کے لئے ایک مایوس کن اقدام ہے۔

جو بائیڈن نے کہا کہ صنفی بنیادوں پر ہونے والے تشدد کو ختم کرنا ہو گا۔ انہوں نے فائرنگ کے ایک واقعے میں جارجیا میں خواتین کے قتل پر بھی گہری تشویش ظاہر کی۔ دنیا کو ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جہاں ہم ایسے معاشروں کی بنیاد رکھیں جہاں خواتین اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کے فیصلے آزادی سے کر سکیں۔

واضح رہے کہ صدر ایردوان نے 20 مارچ بروز ہفتہ خواتین حقوق کے "استنبول کنونشن” سے ترکی کی دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔

ترکی کا موقف ہے کہ اس معاہدے کی آڑ میں ہم جنس پرستوں کی سرگرمیاں بڑھتی جا رہی تھیں اور وہ اس معاہدے کا گلط استعمال کر رہے تھے۔

یہ معاہدہ استنبول میں 2011 میں کیا گیا تھا۔ 34 ممالک نے اس معاہدے پر دستخط کئے جن میں یوکرین، برطانیہ، چیک ری پبلک، سلوواکیہ، مالدووا، لتھوانیا، لٹویا، ہنگری، آرمینیا اور بلغاریہ شامل ہیں۔ یورپین کمیشن نے اس معاہدے پر 13 جولائی 2017 میں دستخط کئے تھے۔

Read Previous

ترک فضائیہ یوم پاکستان پر فضائی کرتب دکھائے گی

Read Next

امروز ہے نوروز

Leave a Reply