fbpx

امروز ہے نوروز

طبیعت کی ژولیدگی کو تروتازگی میں بدلنے کے لیے ہم نے حلیہ درست کرنے کو ترجیح دی۔ نہا دھو کر پھر ہاتھ دھو کر جنگیز کے پیچھے پڑ گئے کہ راستے میں زینب حانم سے ہو کر واک پر نکلتے ہیں۔ وہ مان گیا۔ زینب حانم میری چہرے کی دیکھ بھال والی عورت ہے، جس کی بیٹی ترکی میں مقیم ہے۔ اس لیے وہ ہمیشہ مجھ سے رعایتی نرخ وصولتی ہے۔ جنگیز کو قوی امید تھی کہ زینب خاتون اپنی دکان بڑھا چکی ہوں گی کیونکہ شام ساڑھے سات بجے کا وقت تھا۔لیکن وہ جو پرامیدی کا دیا میرے دل میں روشن تھا اس کا ہی تحفہ تھا کہ زینب حانم دستیاب تھیں۔ اور مجھے دیکھ کر بھاگی ہوئی آئیں۔ پندرہ منٹ چہرے پر اپنے ہاتھ کیا ملے کہ میری مسکراہٹ لوٹ آئی۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو آپ کے چہرے کی سلوٹوں کو کھینچ کر ان سے مسکراہٹ کی کمان بنا لیتے ہیں زینب ان میں سے ایک ہیں۔

 اب نوروز کی خریداری کرنی تھی،دماغ میں فہرست جو بنی تھی اس کے حساب سے پھول، گندم، کیک وغیرہ خریدنے تھے۔لیکن کسی عامیانہ سے دکان سے نہیں۔تہوار پر میرا دل چاہتا ہے کچھ اچھا خریدا جائے۔اور پھر جہاں سے یہ سب خریدا اس دکاندار نے واقعی لوٹنے میں کسر نہ چھوڑی۔  تین عدد گل لالہ گملوں سمیت اور ایک گندم کا چھوٹا سا کھیت نما پارچہ چالیس منات۔ ایک منات سو روپے پاکستانی سمجھ لیں۔

خیر، راستے میں گزرتے ہوئے ایک خاندان کو دیکھا جو باہر آگ کا الاؤ روشن کیے ہوئے تھا اور اس پر کودنے میں مگن تھا ۔

پھر مٹھائی کی دکان پر رکے یہاں سانس روک دینے کو کچھ نہیں تھا، روایتی ترک مٹھائی تھی، کنافہ، بقلاوہ،سوت لاچ، کیک وغیرہ۔

کچھ مٹھائی لے کر یہاں سے  روانہ ہوئے۔ اب گھر جا کر مجھے نوروز کی میز سجانی تھی۔ نوروز کی میز؟ اپ سوچ میں پڑ گئے اور یہ عادت مجھے آذربایجان میں پڑگئی۔کیونکہ ترکی میں نوروز پر اہتمام زیادہ نہیں ہوتا۔ بس کچھ کھانا وانا بنا لیا، چائے پی۔ خوشی محسوس کی کہ بہار آئی اس سے زیادہ نہیں۔

لیکن آذربایجان سے لے کر ایران اور افغانستان حتی کہ قبائلی پاکستان میں نوروز کا ڈنکا اور ڈھول بجتے ہیں۔ اورجشن بے مثال ہوتا ہے۔ کسی افسانے میں پڑھا ہوگا کہ ملک گیر جشن برپا ہوگیا۔ بالکل ویسا ہی افسانوی ماحول تصور کریں اور اس تصویر کو پھر جتنے رنگوں سے بھر سکتے ہیں بھر لیں کہ یہی سب رنگ اور خوشیاں آپ کو نوروز کے جشن پر گلی گلی ملیں گی۔

نوروز کی تاریخ اور جشن اور مقامی طور پر منانے کے انداز پر نظر ڈالتے ہیں۔ پھر میری میز بھی دیکھئے گا جسے میں نے انتہائی سادگی سے سجایا ہے۔

نوروز کا آغاز  21مارچ سے ہوتا ہے۔ چونکہ بہار آچکی ہوتی ہے۔نو روز فارسی کا نیا سال  یعنی نیا آغاز ہوتا ہے جیسا کہ نام سے ظاہر ہے۔ یہ بہار، زرخیزی کی آمد اور خزاں کی اداسی اور تاریکی کی رفت کا موقع  تصور کیا جاتا ہے۔ یہ ایران تا افغانستان، وسطی ایشیا بشمول آذربایجان منایا جانے والا جشن ہے۔

نو روز یعنی نیا دن فارسی تقویم کا پہلا دن ہوتا ہے اور یہ  اگرچہ  کسی بھی دین و مذہب سے غیر متعلقہ تہوار ہے لیکن اس کی جڑیں زردشت یا زرطشت مذہب کے اندر سے بیان کی جاتی ہیں۔

آذربایجان میں چونکہ زردشت مذہب کی باقیات ہر جا ہیں، خواہ وہ آتش کدے ہوں، بھڑکتے ہوئے پہاڑ ہوں، یا پھر شعلہ نما عمارتیں، اسی لیے آتش بھڑکا کر اس پر کودا جاتا ہے ۔ مقامی طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ آگ سارے گناہ، نفرت، کینے، حسد، غصے جملہ برائیوں ،بدقسمتی اور اداسی کو پاک کر دیتی ہے۔اس لئے اس کے اوپر کودنا لازم ہوتا ہے۔

 گو کہ سوویت زمانے میں نوروز پر پابندی لگی تھی تاہم لوگ درون خانہ چپکے سے مناتے تھے۔ اور آج کل یہ آذری تقویم کا سب سےخوشگوار دن تصور کیا جاتا ہے اور پورا ہفتہ ملک گیر تعطیل  رہتی ہے۔ واضح رہے کہ عیدین پر یہ تعطیل دو یا تین دن ہوتی ہے۔ اس سے اندازہ لگا لیں کہ روایتی تہوار کس قدر اہم مانا جاتا ہے۔

جشن کا آغاز چار ہفتے قبل ہی شروع ہوتا ہے یعنی اکیس  مارچ سے قبل کے چار منگل والے دن بہت اہم ہوتے ہیں۔ ان کو بالترتیب پانی، آگ، مٹی، اور ہوا  سے موسوم کیا جاتا ہے۔

اس عرصے میں خاندان کے افراد  مل کر مٹھائی کھاتے ہیں  جیسے بقلاہ، شکر بورا،گوگال  وغیرہ،جن کی اشکال ستاروں، چاند اور سورج کو ظاہر  کرتی ہیں۔ اس سب میں پلاؤ میں پیش کیا جاتا ہے جو بکرے یا دنبے کے زعفرانی گوشت سے بنا ہوتا ہے۔اور دولما بھی کھایا جاتا ہے، دولما کا مطلب ترکش میں بھری ہوئی چیز ہوتا ہے، سو انگور یا گوبھی کے پتوں میں قیمہ ڈال کر ، بند کر، پکا کر،سرکے اور دہی کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔ اور کباب کو کوئی کیسے بھول سکتا ہے۔

اب آتے ہیں نوروز کے میز پر۔ نوروز کی میز کی تیاری میں ہفت سین یعنی سات کا خیال رکھا جاتا ہے۔ کھانے کی میز پر سات سین والےاشیا ءرکھے جاتے ہیں۔ کیونکہ سات کا عدد متبرک مانا جاتا ہے۔

1۔ سامانی یا سبزہ (دال یا اکثر گندم کا سبزہ)  جو زرخیزی اور حیات نو کی علامت ہے۔

2- (سیر فارسی میں ) ترکش میں سارمسک(اردو میں لہسن) جو اچھی صحت کی علامت ہے۔

3-سرکہ جو صبر و تحمل کی نشانی ہے۔

4-سمنو ( گندم کے عرق سے بنا  میٹھا یا کھیر سمجھ لیں)جو ہر نوروز منانے والے ملک میں تقریبا لازمی ہوتا ہوتا ہے۔

5- سیب جو خوبصورتی کی علامت ہوتا ہے۔

6- سماق ( ترک کھانوں میں استعمال ہونے والی سرخ بیری)

7-سنجد (زیتون)

اور ان سب کے ساتھ ایک آئینہ بھی رکھا جاتا ہے جس میں سے سبزہ و گل دکھائی دیتا رہے۔، ایک سنہری مچھلی جو زندگی کی علامت ہوتی ہے۔ قندیلیں یعنی شمعیں ، سکے،پانی ، روایتی مٹھائی اور مقدس کتاب ۔ لوگ اکثر رومی کی مثنوی یا حافظ کا دیوان رکھ دیتے ہیں کچھ لوگ قرآن رکھتے ہیں۔مجھے اپنے منے سائز کے قرآن سے بہت لگاؤ ہے سو میں نے وہی رکھا۔

آذربائجان میں خوانچہ تیار کرنا بھی قدیم روایت ہے ، یہ ایک بڑی تھالی ہوتی ہے جس میں ہفت قسم کے خشک میوے  رکھے ہوتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ پورا ہفتہ رشتے داروں کا میل جول، قبور کی زیارت ، محافل موسیقی ، فال دیکھنا، انڈوں پر نقش نگار بنانا یہ سب چلتا رہتا ہے۔

آئیے میز دیکھئے! آپ سب کو نوروز😍🤩🥳🇵🇰🇹🇷🇦🇿

ozIstanbul

پچھلا پڑھیں

ترکی کے خواتین حقوق کے "استنبول کنونشن” سے دستبرداری پر مایوسی ہوئی، امریکی صدر جو بائیڈن

اگلا پڑھیں

ترک پارلیمنٹ کے باغ میں آسمانی بجلی گر گئی

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے