Turkiya-Logo-top

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تین روزہ دورے پر چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچ گئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چینی صدر شی جن پنگ سے دو روزہ اعلیٰ سطحی مذاکرات کے لیے چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچ گئے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے ہمراہ امریکی ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبے کی بڑی شخصیات بھی موجود ہیں جن میں ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک جبکہ مصنوعی ذہانت اور سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کی عالمی طاقت سمجھی جانے والی کمپنی اینویڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ بھی شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق ان شخصیات کی موجودگی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اس دورے میں مصنوعی ذہانت، جدید چِپ ٹیکنالوجی، الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت اور عالمی ٹیکنالوجی سپلائی چین مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔

روانگی سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ چین سے امریکی صنعتوں اور کمپنیوں کے لیے مزید معاشی مواقع اور تجارتی منڈیاں کھولنے کا مطالبہ کریں گے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ امریکہ چین کے ساتھ تجارتی تعلقات میں “متوازن اور منصفانہ فریم ورک” چاہتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی محصولات، ٹیکنالوجی پابندیوں اور صنعتی مسابقت پر کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

یہ دورہ ابتدائی طور پر مارچ میں طے پایا تھا تاہم ایران جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی غیر معمولی کشیدگی کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔ اب جبکہ امریکہایران جنگ کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں، تیل کی قیمتوں، بحری راستوں اور سفارتی تعلقات پر واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں، واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان یہ ملاقات غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں امریکہایران جنگ، تائیوان کی صورتحال، جنوبی بحیرۂ چین میں بڑھتی عسکری سرگرمیاں، عالمی تجارتی محصولات، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹر صنعت، سائبر سکیورٹی، فوجی اثر و رسوخ اور بحرالکاہل میں طاقت کے توازن جیسے حساس معاملات زیرِ بحث آئیں گے۔

یہ ڈونلڈ ٹرمپ کا 2017 کے بعد پہلا دورۂ چین ہے، تاہم اس مرتبہ حالات ماضی سے یکسر مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران چین نے معاشی، عسکری اور سفارتی سطح پر اپنی طاقت میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور اب وہ خود کو دنیا میں ایک مستحکم، مؤثر اور متبادل عالمی قوت کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ دوسری جانب امریکا چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو اپنے عالمی مفادات کے لیے ایک بڑا چیلنج تصور کرتا ہے۔

عالمی سیاسی مبصرین کے مطابق بیجنگ میں ہونے والی یہ ملاقات صرف دو سربراہانِ مملکت کے درمیان سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ مستقبل کی عالمی سیاست، عالمی معیشت، ٹیکنالوجی کی حکمرانی اور جغرافیائی طاقت کے نئے توازن کا تعین کرنے والی ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

Read Previous

اسلام آباد میں نبی کریم ﷺ کے 1500ویں یومِ ولادت کے موقع پر مقابلہ مضمون نویسی کا انعقاد، وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف اور ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو کی شرکت

Read Next

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 7 دہشت گرد ہلاک، 5 جوان شہید

Leave a Reply