امریکہ نے عراق سے اپنی باقی ماندہ فوج واپس بلانے کے لیے 30 ستمبر کی حتمی تاریخ مقرر کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عراق میں امریکی فوج کی 23 سالہ مسلسل موجودگی ختم ہو جائے گی، جو 2003 میں امریکی قیادت میں عراق پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔
امریکہ اورعراق کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت ستمبر کے آخر تک ملک میں موجود تمام امریکی فوجی اہلکار واپس چلے جائیں گے۔ اس وقت زیادہ تر امریکی اہلکار شمالی عراق کے کرد علاقے میں تعینات ہیں۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
عراقی وزیر اعظم علی الزیدی نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر سے ملاقات کے بعد انخلا کی تاریخ کی تصدیق کی۔ ان کے مطابق 30 ستمبر عراق میں داعش کے خلاف عالمی اتحاد کے فوجی مشن کے خاتمے اور اتحادی افواج کے انخلا کی حتمی تاریخ ہے۔
امریکی فوج کی عراق میں موجودگی اپنے عروج پر ایک لاکھ 70 ہزار سے زیادہ اہلکاروں تک پہنچ گئی تھی، تاہم بعد میں اس میں بڑی کمی کی گئی۔ حالیہ برسوں میں امریکی فوجیوں کی تعداد تقریباً 2,500 رہ گئی تھی۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
2025 میں عراق میں امریکی فوج کے بیشتر اڈے خالی کر دیے گئے تھے اور باقی فوجی موجودگی زیادہ تر اربیل تک محدود ہو گئی تھی۔ خطے میں امریکی فوج کے انخلا کا عمل جولائی کے آخر میں شروع ہوا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ داعش کے خلاف جنگ میں عراق اور عالمی اتحاد نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اب عراقی سکیورٹی فورسز، بشمول پیشمرگہ، ملک میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائیوں کی ذمہ داری سنبھالیں گی۔
امریکی انخلا کے ساتھ عراق میں مسلح غیر ریاستی گروہوں سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ عراقی حکومت نے مسلح دھڑوں کے لیے بھی 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
حکومت کا مؤقف ہے کہ غیر ملکی فوج کے انخلا کے بعد ان گروہوں کے لیے اپنے الگ ہتھیار رکھنے کا جواز ختم ہو جاتا ہے۔ تاہم ایران کے قریب سمجھے جانے والے کئی مسلح گروہوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا ہے، جس کی وجہ سے اس فیصلے پر عمل درآمد مشکل دکھائی دیتا ہے۔
امریکی فوجی انخلا کے ساتھ واشنگٹن اور بغداد کے تعلقات میں بھی تبدیلی آ رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جولائی میں عراق کے ساتھ معاشی تعاون، خصوصاً توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری پر زور دیا تھا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اب عراق میں فوج کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، تاہم امریکی کمپنیاں ملک میں کاروباری سرگرمیاں جاری رکھیں گی۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
امریکی حکام نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر باقی ماندہ فوجیوں کی درست تعداد اور ان کے اگلے مقامات کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔
اگر انخلا طے شدہ منصوبے کے مطابق مکمل ہو گیا تو ستمبر کے آخر میں 2003 کے بعد پہلی مرتبہ عراق میں کوئی امریکی فوجی موجود نہیں ہوگا۔
