Turkiya-Logo-top

امریکا اور ایران میں عارضی جنگ بندی کی مدت پوری ہونے سے قبل سخت بیانات کا تبادلہ

امریکا اور ایران کے درمیان جاری دو ہفتوں پر مشتمل عارضی جنگ بندی کے خاتمے سے قبل دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر واضح اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سخت بیانات، کھلی دھمکیوں اور سفارتی بے یقینی نے خطے کی صورتحال کو انتہائی حساس اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔

لفظی جنگ میں شدت: ٹرمپ اور قالیباف آمنے سامنے

جنگ بندی ختم ہونے کے قریب آتے ہی دونوں جانب سے سخت مؤقف اپنایا جا رہا ہے:

  • ایران کا مؤقف: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ایران "میدانِ جنگ میں نئے آپشنز ظاہر کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے”۔ * امریکی وارننگ: دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ بندی ختم ہونے کے بعد کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پایا، تو ایران کو "ایسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھیں”۔ ٹرمپ کے مطابق، معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں خطے میں شدید نوعیت کے حملے شروع ہو سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز کا واقعہ اور عالمی معیشت پر اثرات

یہ لفظی کشیدگی اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب امریکا نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز کو قبضے میں لے لیا۔

  • ایران نے اس امریکی اقدام پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے جنگ بندی کی ‘کھلی خلاف ورزی’ قرار دیا ہے۔
  • اس اہم تجارتی راستے پر ہونے والے اس واقعے کے فوراً بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے عالمی معیشت پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

پاکستان میں مذاکرات: کیا دوسرا دور ہو پائے گا؟

اس کشیدہ صورتحال کے باعث پاکستان (اسلام آباد) میں ہونے والے امریکا-ایران مذاکرات کا متوقع دوسرا دور بھی غیر یقینی کا شکار ہو گیا ہے۔

  • تہران کی جانب سے تاحال باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی کہ وہ ان مذاکرات میں شریک ہوگا یا نہیں۔
  • ایرانی قیادت اور تجزیہ کاروں کا واضح مؤقف ہے کہ ایران بات چیت کے لیے تیار تو ہے، لیکن "امریکی دباؤ اور دھمکیوں کے سائے میں نہیں”۔ ایران کسی بھی مذاکرات کے لیے برابری اور خودمختاری کی شرط پر قائم ہے۔

بنیادی اختلافات کیا ہیں؟

ماہرین کے مطابق، امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی تعطل کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:

  1. جوہری پروگرام: امریکا کا اصرار ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا، جبکہ ایران اسے معاہدے کا حصہ بنانے سے گریزاں ہے۔
  2. اقتصادی پابندیاں: ایران امریکی معاشی پابندیوں کا فوری خاتمہ چاہتا ہے۔
  3. علاقائی اثر و رسوخ اور میزائل پروگرام: امریکا ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور مشرق وسطیٰ میں اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر قدغن لگانا چاہتا ہے۔
  4. آبنائے ہرمز اور جنگی معاوضے: جہازوں کی ضبطگی اور ممکنہ جنگی معاوضوں کے مطالبات نے بھی معاملات کو الجھا دیا ہے۔

Read Previous

ترکیہ میں بچوں کی آبادی کا تناسب کم ہو کر 24.8 فیصد رہ گیا

Read Next

ترکیہ میں نوجوانوں کی بڑی تنظیمی سرگرمی، 2 ہزار شرکاء کا تربیتی کیمپ مکمل

Leave a Reply