Turkiya-Logo-top

ترکیہ میں بچوں کی آبادی کا تناسب کم ہو کر 24.8 فیصد رہ گیا

ترک اسٹیٹ ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ “اسٹیٹسٹکس آن چلڈرن 2025” کے مطابق ترکیہ میں بچوں کی مجموعی آبادی میں مسلسل کمی کا رجحان برقرار ہے، اگرچہ عددی طور پر بچوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے اختتام تک ترکیہ میں بچوں کی تعداد 2 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ریکارڈ کی گئی، جو ملک کی مجموعی آبادی کا 24.8 فیصد بنتی ہے۔ مجموعی آبادی 8 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1970 میں بچوں کا تناسب 48.5 فیصد تھا، جو 1990 میں کم ہو کر 41.8 فیصد اور اب 2025 میں 24.8 فیصد تک آ گیا ہے۔ اندازوں کے مطابق یہ شرح مزید کم ہو کر 2030 تک 22.1 فیصد اور 2100 تک 14.5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

علاقائی سطح پر بچوں کی آبادی میں واضح فرق دیکھا گیا ہے۔ جنوب مشرقی علاقوں میں شرح سب سے زیادہ ہے، جہاں شہیرلی اورفا میں 43.3 فیصد، شِرناک میں 39.2 فیصد اور مارڈین میں 36.7 فیصد بچوں کی آبادی ریکارڈ کی گئی۔

اس کے برعکس کم شرح والے علاقوں میں تونجلی (15.9 فیصد)، ایدرنے (16.9 فیصد) اور کِرکلاریلی (17.7 فیصد) شامل ہیں۔

گھریلو سطح پر 41.9 فیصد گھرانوں میں کم از کم ایک بچہ موجود ہے، جبکہ شہیرلی اورفا میں یہ شرح 68.2 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2024 میں ملک میں 9 لاکھ 37 ہزار سے زائد زندہ پیدائشیں ریکارڈ کی گئیں، جن میں زیادہ تر سنگل برتھ تھیں، جبکہ شرح پیدائش میں مجموعی طور پر کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔

تعلیمی شعبے میں بچوں کی شمولیت نسبتاً بہتر ہے، جہاں 5 سال کی عمر کے بچوں کی اسکول انرولمنٹ 82.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق 36.8 فیصد بچے غربت یا سماجی محرومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔

ماہرین کے مطابق ترکیہ آبادیاتی تبدیلی کے ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں شرح پیدائش میں کمی اور عمر رسیدہ آبادی میں اضافہ مستقبل کی سماجی و معاشی پالیسیوں کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔

Read Previous

ترکیہ کا سفارتی کردار مزید مضبوط: انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں عالمی رہنماؤں کی بڑی شرکت

Read Next

امریکا اور ایران میں عارضی جنگ بندی کی مدت پوری ہونے سے قبل سخت بیانات کا تبادلہ

Leave a Reply