fbpx

روسی ایئر ڈیفنس سسٹم نصب کرنے پر ترکی کو نتائج بھگتنا ہوں گے، امریکی سفیر کی دھمکی

نیٹو میں امریکی سفیر کے بیلے ہوشنسن نے ترکی سے کہا ہے کہ روس کے S 400  ایئر ڈیفنس سسٹم کو نصب کرنے کے بارے میں دوبار سوچنا ہو گا۔

ترکی کو دھمکی دیتے ہوئے امریکی سفیر نے کہا کہ نیٹو کے دفاعی نظام کے اندر رہتے ہوئے اگر ترکی روس کے ایئر ڈیفنس سسٹم کو نصب کرتا ہے تو اس کے نتائج بھگتنے کے لئے بھی تیار رہے۔

برسلز میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے امریکی کے بیلے ہوشنسن نے کہا کہ نیٹو کا اتحادی ہونے کی حیثیت سے ترکی اگر روس کا ایئر ڈیفنس سسٹم نصب کرتا ہے تو یہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہو گا۔ امریکہ اور نیٹو نے اس معاملے پر ترکی کو پہلے بھی آگاہ کیا تھا اور اب دوبارہ کہا جا رہا ہے کہ ترکی اس ایئر ڈیفنس سسٹم کو نصب کرنے سے باز رہے۔

امریکی سفیر نے کہا کہ ترکی کے پاس ابھی بھی وقت ہے کہ وہ اس معاہدے سے باہر آ جائے۔

انہوں نے کہا کہ مشرقی بحیرہ روم میں قدرتی وسائل کی تلاش کے لئے یونان کے ساتھ ترکی کا سمندری تنازعہ اور کاراباخ معاملے پر آذربائیجان کی مدد ترکی کو مشکلات میں ڈال سکتی ہے۔ نیٹو کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے ترکی کو انتہائی محتاط رویہ اختیار کرنا ہو گا۔

واضح رہے کہ ترکی نے روس کے ساتھ دسمبر 2017 میں S 400 ایئر ڈیفنس سسٹم کی خریداری کا ایک معاہدہ کیا تھا جس کی مالیت ڈھائی ارب ڈالر ہے۔ روس نے ترکی کو اس معاہدے کے تحت سسٹم کے چار ڈویژن فراہم کرنے ہیں جس میں ہر سسٹم کے ساتھ 9 میزائل لانچر بھی شامل ہیں۔

روس نے ترکی کو ایئر ڈیفنس سسٹم جولائی 2019 میں فراہم کر دیا ہے تاہم ترکی نے ابھی تک اس سسٹم کو نصب نہیں کیا ہے۔

روس کے ساتھ ایئر ڈیفنس سسٹم کے معاہدے کے بعد امریکہ نے ترکی کو جدید جنگی جہاز F 35 کی فروخت کا معاہدہ ختم کر دیا تھا۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ روس کا ایئر ڈیفنس سسٹم امریکی F 35 جنگی طیاروں کی ٹیکنالوجی کی معلومات حاصل کر سکتا ہے۔

امریکی کانگریس نے بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ کانگریس نے اپنی قرار داد میں کہا کہ ترکی پر "کاوٗنترنگ امریکاز ایڈورسریز تھرو سینکشنز ایکٹ (سی اے اے ٹی ایس اے) کے تحت پابندیاں لگائی جائیں۔

پچھلا پڑھیں

ترکش سپر لیگ،سیواسپور کو گوزتیپ سے شکست کا سامنا

اگلا پڑھیں

فلسطین تنازعے کا حل صرف آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست ہے، صدر جنرل اسمبلی

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے