نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی رابطوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔
دونوں ممالک کے مذاکرات کار ایک مرحلہ وار سمجھوتے کے امکانات پر غور کر رہے ہیں، جس میں آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے ایران کی امریکی اقتصادی ناکہ بندی ختم کرنا شامل ہوسکتا ہے۔
مجوزہ فارمولے میں منجمد ایرانی اثاثوں تک رسائی دینے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے جیسے اقدامات بھی شامل ہوسکتے ہیں۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
مذاکرات میں امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر جیرڈ کشنر جبکہ ایرانی جانب سے وزیر خارجہ عباس عراقچی اہم رابطوں میں شریک ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست رابطوں کے بجائے ابتدائی بات چیت میں قطر، پاکستان اور مصر نے ثالث کا کردار ادا کیا اور دونوں وفود کے درمیان پیغامات پہنچائے گئے۔ رائٹرز کے مطابق 23 ستمبر کو وٹکوف اور کشنر نے ایرانی وفد کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے بات چیت کی، جسے کئی ماہ بعد دونوں فریقوں کے درمیان اہم سفارتی رابطہ قرار دیا گیا۔
