Turkiya-Logo-top

امریکہ کا پاکستان سمیت اتحادی ممالک کیلئے ایف-16 اپ گریڈ پروگرام، 488 ملین ڈالر کا معاہدہ

واشنگٹن: امریکہ نے پاکستان سمیت اپنے متعدد اتحادی ممالک کے زیرِ استعمال ایف-16 فائٹنگ فالکن (F-16 Fighting Falcon) طیاروں کے ریڈار سسٹمز کی جدید اپ گریڈیشن اور تکنیکی معاونت کے لیے تقریباً 48 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے ایک بڑے دفاعی معاہدے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔

معاہدے کی تفصیلات اور مرکزی کنٹریکٹرز

امریکی فضائیہ کی جانب سے جاری ہونے والی سرکاری دستاویزات کے مطابق، اس وسیع پراجیکٹ کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:

  • نارتھروپ گرومن (Northrop Grumman): یہ معاہدہ مشہور امریکی دفاعی کمپنی نارتھروپ گرومن سسٹمز کارپوریشن کو دیا گیا ہے۔ یہ کمپنی طیاروں میں استعمال ہونے والے APG-66 اور APG-68 ریڈار سسٹمز کی انجینئرنگ سپورٹ، مرمت اور جدید اپ گریڈیشن کا کام انجام دے گی۔
  • لاک ہیڈ مارٹن (Lockheed Martin): اس کے علاوہ امریکی دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کو اس وسیع پروگرام کا ‘مرکزی کنٹریکٹر’ قرار دیا گیا ہے۔
  • منصوبے کی مدت اور مقام: حکام کے مطابق، اس منصوبے پر کام امریکی ریاست میری لینڈ کے علاقے لن تھیکم ہائٹس میں کیا جائے گا اور یہ پروگرام مارچ 2036 تک جاری رہے گا۔
  • فارن ملٹری سیلز (FMS): یہ اہم معاہدہ امریکی ‘فارن ملٹری سیلز’ پروگرام کے تحت کیا گیا ہے۔

پروگرام میں شامل اتحادی ممالک

اس اپ گریڈیشن پروگرام میں پاکستان کے علاوہ امریکہ کے دیگر اہم اتحادی ممالک بھی شامل ہیں جن میں بحرین، بیلجیئم، چلی، ڈنمارک، مصر، یونان، انڈونیشیا، عراق، اسرائیل، اردن، جنوبی کوریا، مراکش، نیدرلینڈز، ناروے، عمان، پولینڈ، پرتگال، رومانیہ، تھائی لینڈ اور ترکی شامل ہیں۔

اپ گریڈیشن پیکج کی نمایاں خصوصیات

رپورٹس کے مطابق، اس اپ گریڈ پروگرام میں پرانے سسٹمز کو جدید ٹیکنالوجی سے بدلا جائے گا، جس میں شامل ہیں:

  • جدید نیویگیشن ٹیکنالوجی
  • “آئیڈینٹیفکیشن فرینڈ یا فو” (IFF) نظام (اپنے اور دشمن کی پہچان کا نظام)
  • سافٹ ویئر اپ ڈیٹس اور مستقل انجینئرنگ سپورٹ
  • محفوظ کمیونیکیشن آلات اور جدید فلائٹ سمیولیٹرز

پاکستان کے ایف-16 بیڑے کے لیے اہمیت

امریکی ‘ڈیفنس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی’ (DSCA) کے مطابق، اس اپ گریڈیشن کا بنیادی مقصد پاکستان کے ایف-16 طیاروں کی آپریشنل صلاحیت کو برقرار رکھنا، انہیں دورِ حاضر کے جدید دفاعی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور ان کی سروس لائف (عمر) کو 2040 تک بڑھانا ہے۔

  • اضافی امریکی عملہ نہیں: امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے پاکستان میں کسی قسم کا اضافی امریکی فوجی عملہ تعینات نہیں کیا جائے گا۔
  • دسمبر 2025 کا پیکج: واضح رہے کہ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب دسمبر 2025 میں DSCA نے پاکستان کے ایف-16 بیڑے کے لیے 686 ملین ڈالر کے ایک اور مجوزہ اپ گریڈ پیکج سے امریکی کانگریس کو آگاہ کیا تھا، جس میں ‘Link-16 ڈیٹا سسٹمز’ اور جدید ایویونکس شامل تھے۔

Read Previous

ایران کی مذاکرات کیلئے نرمی، پاکستان میں امریکہ سے بات چیت کی تجویز: امریکی میڈیا

Read Next

پاک افغان صورتحال پر برطانوی موقف زمینی حقائق کے برعکس ہے، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان

Leave a Reply