Turkiya-Logo-top

ایران کی مذاکرات کیلئے نرمی، پاکستان میں امریکہ سے بات چیت کی تجویز: امریکی میڈیا

واشنگٹن / تہران: امریکی میڈیا کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے آغاز کے لیے اپنے سخت مؤقف میں نمایاں نرمی دکھاتے ہوئے نئی تجاویز پیش کر دی ہیں۔

امریکی اخبار ‘وال اسٹریٹ جرنل’ کے مطابق، تہران کی جانب سے سامنے آنے والی ان تازہ پیشکشوں کو خطے میں جاری شدید کشیدگی کو کم کرنے کے حوالے سے ایک انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں مذاکرات کی تجویز اور شرائط

ذرائع کے مطابق، ایران نے سفارتی برف پگھلانے کے لیے اہم شرائط رکھی ہیں:

  • پابندیوں کا خاتمہ: ایران نے پیشکش کی ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، جس کے بدلے میں اقتصادی پابندیوں کو نرم یا مکمل طور پر ختم کیا جائے۔
  • پاکستان بطور میزبان: تہران نے عندیہ دیا ہے کہ اگر واشنگٹن باضابطہ آمادگی ظاہر کرے، تو دونوں ممالک کے درمیان آئندہ ہفتے ہی پاکستان میں ممکنہ مذاکرات کا انعقاد کیا جا سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے نیا فارمولا

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران نے عالمی تیل کی تجارت کے لیے شہ رگ سمجھی جانے والی ‘آبنائے ہرمز’ کے حوالے سے بھی ایک نئی اور جامع تجویز پیش کی ہے۔ اس تجویز کے تحت درج ذیل امور پر بیک وقت (Simultaneous) بات چیت ہو سکتی ہے:

  1. اگر ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی ختم کی جاتی ہے، تو وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
  2. خطے میں جاری حملوں کے فوری خاتمے پر اتفاقِ رائے۔
  3. ناکہ بندی کے مستقل خاتمے کے لیے ٹھوس ضمانتوں کی فراہمی۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں تیل کی ترسیل کے حوالے سے شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ

اس اہم پیش رفت پر ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ ایران سفارت کاری اور بات چیت کا راستہ کھلا رکھنے کے لیے مکمل تیار ہے۔ تاہم، انہوں نے امریکہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ:

"امریکہ کو اپنی دھمکی آمیز زبان اور دباؤ کی پالیسی ہر صورت تبدیل کرنا ہوگی۔ مذاکرات صرف اسی صورت ممکن اور نتیجہ خیز ہو سکتے ہیں جب دونوں فریق سنجیدگی اور باہمی احترام کے ساتھ آگے بڑھیں۔”

خطے کے لیے امید کی کرن: سفارتی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر پاکستان کی میزبانی اور ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات کا یہ دوسرا دور شروع ہو جاتا ہے، تو یہ نہ صرف دونوں ممالک کے کشیدہ تعلقات میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے، بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے منڈلاتے بادلوں کو چھٹانے میں بھی انتہائی مددگار ثابت ہوگا۔

Read Previous

سینیٹر مشتاق احمد اسرائیلی تحویل سے رہائی کے بعد ترکیہ منتقل؛ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کر دی

Read Next

امریکہ کا پاکستان سمیت اتحادی ممالک کیلئے ایف-16 اپ گریڈ پروگرام، 488 ملین ڈالر کا معاہدہ

Leave a Reply