بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے زیرِ اہتمام جنتر منتر میں ہونے والے احتجاج کے بعد رضاکارانہ خدمات انجام دینے والے محمد جنید نے الزام عائد کیا ہے کہ اتر پردیش پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا ان کے والد کو حراست میں لیا، اہلِ خانہ کو ہراساں کیا اور بعض اہم دستاویزات بھی اپنے قبضے میں لے لیں
محمد جنید جو احتجاج کے دوران مظاہرین کو مفت کھانا اور پانی فراہم کرنے والی ٹیم کا حصہ تھے کا کہنا ہے کہ احتجاج ختم ہونے کے بعد غازی آباد میں واقع ان کے گھر پر پولیس نے کارروائی کی۔
ان کے مطابق پولیس اہلکار گھر میں داخل ہوئے، اہلِ خانہ سے پوچھ گچھ کی، والد مصطفیٰ کو اپنے ساتھ لے گئے اور بینک پاس بکس، پین کارڈ سمیت بعض اہم دستاویزات بھی قبضے میں لے لیے۔
یہ کارروائی صرف اس وجہ سے کی گئی کیونکہ وہ احتجاج میں رضاکار کے طور پر شریک تھے
محمد جنید کی بہن نے بتایا کہ جمعرات کی شام مسوری تھانے کی پولیس ان کے گھر پہنچی، گھر کی تلاشی لی اور ان کے والد سے کہا کہ محمد جنید کو فوراً گھر واپس بلایا جائے۔
خاندان کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے انہیں شدید ذہنی دباؤ اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا
کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان سوربھ داس نے اس مبینہ کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج میں شریک افراد اور ان کے اہلِ خانہ کو نشانہ بنانا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ احتجاج ختم ہونے کے بعد مظاہرین کے خلاف ایک غیر قانونی کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے اور مطالبہ کیا کہ اگر کسی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے تو اسے فوری طور پر رہا کیا جائے
