turky-urdu-logo

صدر رجب طیب ایردوان، ترکیہ کے ناقابل تسخیر کردار

تحریر : حماد یونس

ایک بار پھر ناقابلِ شکست، رجب طیب ایردوان تیسری بار ترکیہ کے صدر منتخب ہو گئے۔

صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں صدر ایردوان نے مد مقابل کمال کلچدار اولو کو شکست دے دی ۔

28مئی کے رن آف الیکشن میں طیب ایردوآن نے 52.16  فیصد ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی جبکہ اپوزیشن کے امیدوار کلچدار اولو 47.84 فیصد ووٹ حاصل کر سکے۔ طیب ایردوان 600 ارکان پر مشتمل پارلیمنٹ میں میں بھی بھاری اکثریت حاصل کر چکے ہیں۔

مغرب کا ایردوان مخالف ایجنڈہ اور پراپیگنڈا دھرے کا دھرا رہ گیا ۔ اب ترک عوام ایردوان کی قیادت میں ترکیہ کی صدی کے خواب کی تکمیل کریں گے ۔

رجب طیب ایردوان کی سرخروئی کا سفر ، 30 برس سے جاری ہے۔ ان کا ترک عوام سے رشتہ اس قدر مربوط ہے کہ جب بھی ایردوان نے انتخابی میدان میں قدم رکھا تو عوام نے انہیں نامراد نہیں لوٹنے دیا۔

1993 میں میئر منتخب ہونے کے بعد ، 2001 میں ایردوان نے آق پارٹی کی بنیاد رکھی اور 2002 کے انتخابات میں قدم رکھا ۔ آق پارٹی نے سادہ اکثریت حاصل کی اور ایردوان ترکیہ کے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔

2007 کے انتخابات میں ایک بار پھر ایردوان انتخابی میدان میں اترے اور دوبارہ ان کی جماعت کامیاب ہوئی ۔ ایردوان ایک بار پھر ترکیہ کے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔

2014 کے انتخابات میں ایک بار پھر آق پارٹی کو کامیابی ملی مگر اس میں منفرد بات یہ تھی کہ ایردوان بطور صدارتی امیدوار سامنے آئے اور آتے ہی ترک منظر نامے پر چھا گئے۔ صدر ایردوان ترکیہ صدر منتخب ہوئے۔

جبکہ 2015 کے عام انتخابات میں بھی آق پارٹی کو واضح کامیابی حاصل ہوئی مگر چونکہ پہلی بار سادہ اکثریت نہیں ملی تھی لہٰذا دوبارہ انتخابات کروائے گئے اور دوسرے مرحلے میں آق پارٹی نے پہلے مرحلے کے مقابلے میں 59 نشستیں زیادہ حاصل کر کے اپنی حکومت قائم کی۔

2017 میں ترکیہ میں صدارتی نظام نافذ کر دیا گیا اور انتخابی اصلاحات کے نتیجے میں صدر کے انتخاب کا حق براہ راست ترک عوام کو سونپ دیا گیا۔

2018 میں ترکیہ میں صدارتی انتخابات ہوئے تو صدر ایردوان ایک بار پھر ترک عوام کی امنگوں کے محور ثابت ہوئے ۔ 2019 کے عام انتخابات میں بھی صدر ایردوان کی آق پارٹی ہی کامیاب ہوئی تھی۔

پھر 2018 کو 5 برس گزر گئے۔

صدر ایردوان نے دن رات ترک عوام کی خدمت میں لگائے، ترک معیشت، صحت ، دفاع، تعلیم ہر شعبے میں ترکیہ کو رفعتوں اور بلندیوں سے سرشار کیا۔

اور صدر ایردوان کے مخالفین نے سر جوڑ لیے کہ پورا زور لگا دیں گے مگر ترک عوام اور ایردوان کے درمیان قائم یہ اٹوٹ رشتہ توڑ کر رہیں گے۔ یہ مغرب کا بھی بنیادی ایجنڈا تھا کہ ایردوان کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

وہ ایردوان جو دنیا بھر کے مسلمانوں کی توانا آواز ہے۔ وہ ایردوان جو فلسطین ، کشمیر ، میانمار ، مصر ، بنگلہ دیش ہر جگہ مظلوموں کا ساتھ دیتا ہے اور مغربی ایجنڈے کو ہر قدم پر بے نقاب کرتا ہے۔ اسلامو فوبیا کے مرض کا علاج جانتا ہے مگر جو ایردوان نے ترکیہ میں احیائے اسلام کا پرچم بلند کیا، مغرب کو سب سے زیادہ مسئلہ اسی سے ہے۔

ایردوان نے کلچدار اولو کو شکست دی، مغرب کو شکست دی، مغربی ایجنڈے کو شکست دی اور ایردوان ایک بار پھر ناقابلِ تسخیر رہے۔

انہوں نے اس دوران جمہوریت ، انصاف اور کرپشن فری نظام کے فروغ کے سلسلے میں نیک نامی کمائی اور عوام کی فی کس آمدنی بھی بہتر بنائی۔ ترکیہ میں نئے اسپتال ، اسکولز ، ڈیم ، سڑکیں ، رہائش گاہیں اور پاور پلانٹ بنوائے ۔

صدر ایردوان نے اپنے 20 سالہ دور حکومت میں لا تعداد رفاہی و فلاحی منصوبے شروع کیے اور انہیں تکمیل تک بھی پہنچایا۔ ترک اٹامک پاور پلانٹ ، IMECE اسپیس سیٹلائٹ ، ٹی سی جی انادولو بحری جہاز ، ٹوگ کار ، حر جیٹ ، التائے ٹینک ،چناکلے برج ، قاآن ففتھ جنریشن فائٹر پلین ترکیہ گرین انیشیئیٹو ، فائنانس سینٹر، بحیرہ احمر کے گیس کے ذخائر سمیت بے شمار کامیاب منصوبے ان کے کریڈٹ پر ہیں۔

صدر ایردوان گزشتہ 20 برس سے ترکیہ کے حکمران ہیں اور اس دوران انہوں نے ترکیہ کی کرنسی کو غیر معمولی طور پر مضبوط کیا اور ترک عوام کے معیارِ زندگی کو بہت بہتر بنایا ، جس پر دنیا بھر انہیں ایک کامیاب اور بہترین ایڈمنسٹریٹر تسلیم کرتی ہے، جبکہ بین الاقوامی سیاست میں بھی ان کے فلسطین ، کشمیر ، روس یوکرین ، اناج راہداری ، شامی پناہ گزین سمیت بے شمار معاملات میں کارکردگی انہیں تمام معاصرین سے ممتاز کرتی ہے

Alkhidmat

Read Previous

ایردوان کی فتح پر ہم کیوں خوش ہیں؟

Read Next

فتح صرف ترکیہ کی ہے،صدر ایردوان

Leave a Reply