turky-urdu-logo

ترکیہ نے غزہ کے لیے 9واں امدادی بحری جہاز روانہ کردیا ہے،صدر ایردوان

دارالحکومت انقرہ میں کابینہ کے اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان  نے زور دے کر کہا کہ ترکیہ اسرائیل کو ایسی کوئی برآمدات کی اجازت نہیں دے گا  اور نہ ہی پچھلے سال اکتوبر میں غزہ پر موجودہ فوجی کارروائی شروع کرنے سے پہلے دے رہا تھا  جسے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

انکا کہنا تھا کہ ترکیہ نے غزہ کو انسانی امداد فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر اپنا کردار برقرار رکھا ہے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ ترکیہ نے غزہ کے لیے 9 واں امدادی بحری جہاز روانہ کر دیا گیا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ترکیہ وہ ملک ہے جس نے گزشتہ اکتوبر میں تل ابیب کی طرف سے غزہ کی پٹی پر حملے شروع کرنے کے بعد اسرائیل کے خلاف برآمدات پر پابندی کا آغاز کیا۔

صدر ایردوان نے کہا کہ چند ممالک کے علاوہ کسی نے بھی اسرائیلی انتظامیہ کی "بربریت” پر ردعمل ظاہر نہیں کیا جس نے بین الاقوامی طریقوں کو پامال کیا۔

صدر ایردوان نے عالمی افراتفری کے درمیان ایک مستحکم اداکار کے طور پر ترکیہ کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ اس کی متوازن خارجہ پالیسی اور دفاعی صنعت میں کامیابیاں ہیں۔

7 اکتوبر سے، اسرائیلی حکومت خطے میں آگ پھیلانے کے لیے اشتعال انگیز اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی قوانین اور ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دمشق میں ایرانی سفارت خانے کو  نشانہ بنانا آخری تنکا تھا۔

انہوں نے عالمی اداروں  پر زور دیا کہ وہ  اسرائیلی حملوں کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

ایران نے ہفتے کے روز شام کے دارالحکومت میں اپنے سفارتی کمپاؤنڈ پر یکم اپریل کو کیے گئے فضائی حملے کے جواب میں اسرائیل پر فضائی حملہ کیا۔

مبینہ طور پر اس نے 300 سے زیادہ ڈرون اور میزائل داغے جن میں سے تقریباً سبھی کو اسرائیل اور اس کے اتحادیوں – امریکہ، فرانس اور برطانیہ کے فضائی دفاعی نظام نے روکا۔

اسرائیل نے گزشتہ اکتوبر میں حماس کی طرف سے سرحد پار سے کیے گئے حملے کے بعد سے غزہ پر فوجی کارروائی شروع کر رکھی ہے، جس میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بڑے پیمانے پر تباہی اور اشیائے ضروریہ کی قلت کے باعث اب تک 33,800 سے زیادہ فلسطینی ہلاک اور 76,600 دیگر زخمی ہو چکے ہیں۔

 

Alkhidmat

Read Previous

سعودی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان :صدر ، وزیر اعظم اور آرمی چیف آف پاکستان سے ملاقاتیں

Read Next

آپریشن’صادق الوعد‘کے واقعات، نتائج اور اثرات

Leave a Reply