Turkiya-Logo-top

ترکیہ اور عراق کا تیل پائپ لائن معاہدہ، خام تیل کی برآمدات جاری رہیں گی

ترکیہ اور عراق کے درمیان خام تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان موجود عراق-ترکیہ آئل پائپ لائن کو مزید ایک سال تک فعال رکھا جائے گا۔

ترکیہ کے وزیر توانائی الپ ارسلان بایراکتار نے بتایا کہ دونوں ممالک نے خام تیل کی پائپ لائن کے استعمال کو جاری رکھنے کے لیے عبوری معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

یہ معاہدہ اس دوطرفہ انتظام کی توسیع ہے جو کئی دہائیوں سے جاری تھا اور حال ہی میں ختم ہو گیا تھا۔ اس انتظام کے تحت عراق کو اپنی واحد فعال تیل برآمدی پائپ لائن کے ذریعے عالمی مارکیٹ تک رسائی حاصل تھی۔

ترک وزیر توانائی کے مطابق طویل المدتی معاہدے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، تاہم فی الحال ایک سالہ معاہدہ نافذ کر دیا گیا ہے تاکہ تیل کی ترسیل میں تعطل پیدا نہ ہو۔

معاہدے کے تحت عراق-ترکیہ پائپ لائن روزانہ 7 لاکھ 50 ہزار بیرل خام تیل کی ترسیل کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس معاہدے میں ترکیہ کی سرکاری توانائی کمپنی بوٹاش جبکہ عراق کی سرکاری تیل کمپنیاں سومو اور این او سی شامل ہیں۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

ترکیہ چاہتا ہے کہ اس پائپ لائن کو مکمل صلاحیت کے ساتھ استعمال کیا جائے، کیونکہ اس کی مجموعی گنجائش روزانہ 15 لاکھ بیرل تک ہے۔

یہ پائپ لائن شمالی عراق کے تیل ذخائر کو ترکیہ کی بحیرہ روم کی بندرگاہ جیہان سے جوڑتی ہے، جہاں سے خام تیل عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔

ترک اعداد و شمار کے مطابق اس وقت اس پائپ لائن کے ذریعے تقریباً 1 لاکھ 70 ہزار بیرل تیل روزانہ جیہان بندرگاہ تک پہنچ رہا ہے۔

ترکیہ اور عراق کے درمیان یہ معاہدہ دونوں ممالک کے توانائی تعاون کو مزید مضبوط کرے گا، جبکہ عراق کے لیے تیل برآمدات کا اہم راستہ بھی برقرار رہے گا طویل المدتی معاہدہ طے پانے کی صورت میں اس پائپ لائن کی صلاحیت میں اضافہ اور جنوبی عراق کے تیل ذخائر کو بھی اس نظام سے منسلک کرنے کے امکانات موجود ہیں۔

Read Previous

پاکستانی کانٹینٹ کریئیٹر عاطفہ ارشد کی اسپائیڈر ویب ساڑھی نے اسپائیڈر مین پریمیئر پر سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی

Leave a Reply