خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے قریب ہونے والے خودکش دھماکے میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 15 افراد شہید جبکہ 10 افراد زخمی ہوگئے۔ واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سیکیورٹی فورسز نے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔
پولیس حکام کے مطابق خودکش حملہ آور نے کبل پولیس اسٹیشن میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں نے اسے مرکزی گیٹ پر روک لیا، جس پر حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں کی بروقت کارروائی سے حملہ آور تھانے کے اندر داخل نہ ہو سکا، جس سے ممکنہ طور پر بڑے جانی نقصان سے بچاؤ ہوا۔
خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خودکش حملہ تھا جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ دھماکے کی نوعیت کا مزید جائزہ لے رہا ہے۔ ڈی پی او سوات محمد عمر کے مطابق جائے وقوعہ سے ایک انسانی سر بھی ملا ہے، جو بظاہر حملہ آور کا معلوم ہوتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات حملہ آور کے ممکنہ طور پر افغان شہری ہونے کی نشاندہی کرتی ہیں، تاہم اس کی حتمی تصدیق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کی جائے گی۔
تمام زخمیوں اور شہداء کو سینٹرل اسپتال سوات منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری علاقے میں موجود ہے اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور شہداء کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملہ آور کو تھانے میں داخل ہونے سے روکنے والے شہید پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانی نے کئی قیمتی جانیں بچا لیں
