ترکیہ نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے بعد خلیج اور آبنائے ہرمز کی صورتحال ہمیشہ کے لیے تبدیل ہو سکتی ہے۔ ترک وزیر تجارت عمر بولات کے مطابق دنیا اب توانائی، تیل اور دیگر اسٹریٹجک اشیا کی ترسیل کے لیے متبادل راستوں پر تیزی سے کام کر رہی ہے
ترکیہ کے وزیر تجارت عمر بولات نے استنبول میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز تنازعہ کے بعد ممالک اب ہمیشہ اپنی اسٹریٹجک سپلائیز، اہم توانائی ذرائع اور دیگر ضروری اشیا کے لیے متبادل راستوں پر غور کریں گے اور اسی کے مطابق اقدامات کریں گے
انہوں نے کہا کہ عالمی تجارت میں ایک ہی راستے پر انحصار کا دور ختم ہو چکا ہے، جبکہ ترکیہ کی لچکدار لاجسٹک صلاحیت اسے مختلف حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے اور سپلائی برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے
بولات نے کہا کہ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کے لیے ماضی کے بحرانوں کے مقابلے میں زیادہ تباہ کن نتائج پیدا کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جنگ سے پہلے دنیا کے تقریباً 25 فیصد تیل، 20 فیصد قدرتی گیس، اور کھاد و پیٹروکیمیکل تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ اس آبی گزرگاہ سے گزرتا تھا۔ بولات کے مطابق جیسے ہی جہاز رانی پر حملے شروع ہوئے اور ایران نے آبنائے ہرمز کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا، سپلائی میں خلل کے خدشات بڑھ گئے اور قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔
ہرمز بحران کے باعث مارچ میں خلیجی ممالک کو ترکیہ کی برآمدات میں 35 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد برآمدات کم ہو کر 1.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
تاہم ترکیہ کو یورپ سمیت دیگر منڈیوں سے اضافی آرڈرز موصول ہوئے کیونکہ کئی ممالک متبادل سپلائرز تلاش کرنے لگے۔
ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے 28 فروری کو شروع کی گئی جنگ نے عالمی توانائی سپلائی کو شدید متاثر کیا۔ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کے باعث دنیا بھر میں تیل اور گیس کی ترسیل میں تاریخی خلل پیدا ہوا، جس کے اثرات عالمی معیشت پر نمایاں طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
