ترکیہ کو شامی سرزمین کا کوئی لالچ نہیں ہے،شامی عوام ہمارے بھائی ہیں، صدر ایردوان

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے شام میں جاری جنگ کے حوالے سے مزید اقدامات کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ممالک کے درمیان سفارت کاری کو کبھی بھی غیر فعال نہیں کرنا چائیے۔

صدر ایردوان نے گزشتہ روز یوکرین کے ایک روزہ دورے کے بعد ترکیہ واپسی پر طیارے میں  صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیے ۔

صدر  ایردوان نے کہا کہ ترکیہ روس کے ساتھ مل کر شمالی شام میں دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے، ” ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ایک  مخصوص حصے میں  روس کے ساتھ مل کر نمٹ رہے ہیں اور بعض علاقوں میں ہم اپنے فوجیوں اور سیکورٹی فورسز کے ذریعے  خدمات ادا کر رہے ہیں۔

اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ شام میں دہشت گردی کا بنیادی منبع امریکہ اور اتحادی افواج ہیں، ایردوان نے کہا، "انہوں نے یہ کاروائیاں  بڑی بے رحمی سے کیں  اور اب بھی کر رہے ہیں۔”

"ہمارا بیان ‘ہم ایک رات اچانک آ سکتے ہیں’ خیالی پلاو نہیں ہے ۔ وقت آنے پر سب کو پتا چل جائے گا۔ ہم ان تمام چیزوں کے لیے تیار ہیں۔ ہمارے پاس طاقت ہے اور  جو کچھ بھی کرنا پڑا لمحہ بہ لمحہ کریں گے۔

امریکہ کے دہشت گردوں کو عراق میں حمایت و تعاون فراہم کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ  آج اگر عراق میں  بے چینی کی فضا قائم ہے تو اس کا ذمہ دار امریکہ ہے۔ یہ دہشت گردتنظیمیں با آسانی  وائٹ ہاوس کے ساتھ  مذاکرات بھی کررہی ہیں، ہم اس چیز سے باخبر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ترکیہ شامی سر زمین پر نگاہیں نہیں رکھتا ، ہم اس چیز کے پیچھے نہیں ہیں کہ ہم اسد کو مات دیں گے یا نہیں۔ شامی عوام ہمارے بھائی ہیں، ان کی ملکی سالمیت ہماری لیے انتہائی اہم ہے۔ ملکی انتظامیہ کو اس چیز کا ادراک کر لینا چاہیے۔

 ریاستوں کے مابین  کبھی بھی سیاسی ڈائیلاگ  یا ڈپلومیسی  کو منقطع نہ کیے جانے کی وضاحت کرنے ہوئے صدر نے کہا کہ  ہمیشہ  اس طرح کے ڈائیلاگ  ہوتے ہیں اور ہونے بھی چاہییں۔

Read Previous

صدر ایردوان کا دورہ یوکرین

Read Next

امریکا میں رکھے گئے افغان اثاثوں کو فوری طور پر جاری کیا جانا چاہیے،پاکستان

Leave a Reply