ترکیہ میں منشیات اور دیگر مضر عادات کے خلاف جدوجہد کو مزید مؤثر بنانے کے لیے وزارتِ خاندانی و سماجی خدمات اور یشیلائے نے ایک اہم اشتراک کا آغاز کر دیا ہے۔ استنبول میں ہونے والی تقریب کے دوران دونوں اداروں کے درمیان ایک نئے تعاون معاہدے پر دستخط کیے گئے، جس کا مقصد نشے کے خطرات سے دوچار افراد اور ان کے خاندانوں کو بروقت مدد، رہنمائی اور بحالی کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
وزیرِ خاندانی و سماجی خدمات ماہینور اوزدمیر گوکتاش کا کہنا تھا کہ نشہ اب صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ پورے خاندان، معاشرے، تعلیم، روزگار اور سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرنے والا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بچوں کو نقصان دہ عادات سے محفوظ رکھنا اور خاندانوں کو مضبوط بنانا قومی ذمہ داری ہے۔
وزیر نے بتایا کہ وزارت اب تک نشے سے متعلق آگاہی مہمات، مشاورتی خدمات اور خاندانی معاونت کے پروگراموں کے ذریعے پچیس لاکھ سے زائد افراد تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل دور کے بڑھتے ہوئے خطرات پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ سماجی رابطوں کے ذرائع پر بچوں کے تحفظ کے لیے نئے اقدامات اسی مقصد کے تحت کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب نشہ جڑ پکڑنے سے پہلے خطرات کی نشاندہی کر لی جائے، بروقت مداخلت کی جائے اور متاثرہ افراد کو دوبارہ ایک فعال اور مضبوط شہری کے طور پر معاشرے کا حصہ بنایا جائے۔
دوسری جانب یشیلائے کے صدر محمد دینچ نے کہا کہ نشہ صرف ایک شخص کو متاثر نہیں کرتا بلکہ اس کے اثرات پورے خاندان اور معاشرے تک پھیل جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ کا مضبوط خاندانی نظام نشے کے خلاف سب سے بڑی طاقت ہے، اسی لیے روک تھام اور بحالی دونوں مراحل میں خاندانوں کی شمولیت ناگزیر ہے۔
محمد دینچ کے مطابق یشیلائے اور وزارت کے مشترکہ پروگراموں کے ذریعے اب تک تیرہ لاکھ سے زائد افراد تک آگاہی اور حفاظتی سرگرمیاں پہنچائی جا چکی ہیں، جبکہ سینکڑوں ماہرینِ نفسیات اور سماجی کارکنان کو خصوصی تربیت بھی دی گئی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی وبا کے بعد جوئے اور سماجی رابطوں کے ذرائع کی لت تیزی سے بڑھتی ہوئی نئی مشکلات بن کر سامنے آئی ہے، جو بچوں، نوجوانوں اور بڑوں سب کو متاثر کر رہی ہیں۔
نئے معاہدے کے تحت روک تھام، علاج، بحالی اور معاشرے میں دوبارہ شمولیت کے تمام مراحل میں دونوں ادارے مل کر کام کریں گے، تاکہ ترکیہ بھر میں افراد، خاندانوں اور معاشروں کو زیادہ مضبوط اور مؤثر سہارا فراہم کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام صرف نشے کے خلاف ایک پروگرام نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو محفوظ، صحت مند اور مضبوط مستقبل دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
