Turkiya-Logo-top

انقرہ میں ہوگا فیصلہ! کیا نیٹو کا مستقبل بدلنے جا رہا ہے؟

دنیا کی نظریں اب ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ پر مرکوز ہیں، جہاں 6 جولائی کو ہونے والا نیٹو سربراہی اجلاس اتحاد کی تاریخ کا سب سے اہم اجلاس قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صرف ایک معمول کی سفارتی نشست نہیں بلکہ ایسے وقت میں منعقد ہو رہی ہے جب نیٹو کو بیک وقت کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔

یوکرین جنگ کے پانچ سال مکمل ہونے کے باوجود اس کے خاتمے کا کوئی واضح راستہ سامنے نہیں آ سکا، جبکہ امریکہ کی بدلتی ہوئی دفاعی پالیسیوں نے بھی یورپی اتحادیوں میں بے یقینی پیدا کر دی ہے۔ دوسری جانب یورپ اپنی الگ دفاعی حکمت عملی تشکیل دینے کی کوششوں میں مصروف ہے، جس سے نیٹو کے اندر نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انقرہ اجلاس میں سب سے اہم بحث امریکہ کے کردار پر ہوگی۔ واشنگٹن کی جانب سے اجتماعی دفاعی ضمانتوں کے حوالے سے نئی سوچ نے یورپی ممالک کو اپنے دفاعی اخراجات بڑھانے اور فوجی صلاحیتوں میں اضافے پر مجبور کر دیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یورپی دفاعی خودمختاری کا معاملہ بھی اجلاس کا اہم موضوع ہوگا۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر یورپی یونین کے اندر دفاعی ڈھانچہ مزید مضبوط ہوا تو نیٹو کے اندر دو الگ سطحوں پر مشتمل نظام پیدا ہو سکتا ہے، جو اتحاد کی یکجہتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

اجلاس میں یوکرین کی مسلسل حمایت، دفاعی پیداوار میں اضافہ، دہشت گردی، غیر قانونی ہجرت اور مشرقِ وسطیٰ و شمالی افریقہ کی سیکیورٹی صورتحال پر بھی اہم فیصلوں کی توقع کی جا رہی ہے۔

اس پورے منظرنامے میں ترکیہ کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ نیٹو کی دوسری بڑی فوج، مضبوط دفاعی صنعت، بحیرہ اسود میں فعال کردار اور دہشت گردی کے خلاف وسیع تجربے نے ترکیہ کو اتحاد کے اہم ترین ستونوں میں شامل کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق انقرہ اجلاس شاید تمام مسائل کا فوری حل نہ دے سکے، لیکن یہ ضرور طے کرے گا کہ آنے والے برسوں میں نیٹو کس سمت میں آگے بڑھے گا۔ اسی لیے اسے نہ صرف اس دہائی بلکہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کا سب سے اہم نیٹو اجلاس قرار دیا جا رہا ہے۔

Read Previous

لبنانی آرمی چیف کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل پاکستان جنرل عاصم منیر سے اہم ملاقات

Read Next

بچوں اور نوجوانوں کو نشے سے بچانے کے لیے ترکیہ کا اہم فیصلہ

Leave a Reply