Turkiya-Logo-top

ترک یومِ جمہوریہ کی 103ویں سالگرہ، ملک بھر میں ثقافتی پروگراموں اور کھیلوں کے مقابلوں کا اہتمام

ترکیہ میں یومِ جمہوریہ کی 103ویں سالگرہ کی تقریبات جاری ہیں۔ استنبول سے انقرہ تک قومی پرچموں کی بہار ہے، ثقافتی پروگراموں، موسیقی کی محفلوں، پریڈز اور کھیلوں کے مقابلوں کے ذریعے جشن منایا جا رہا ہے۔ سرکاری اور عوامی سطح پر ہونے والی سرگرمیوں میں قومی تاریخ، خودمختاری اور جمہوریہ سے وابستگی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

29 اکتوبر 1923 کو مصطفیٰ کمال اتاترک کی قیادت میں جمہوریہ ترکیہ کا اعلان ہوا، جو جدید ترک ریاست کی تشکیل میں ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوا۔ جمہوریہ کے قیام کے بعد سیاسی، تعلیمی، قانونی اور سماجی شعبوں میں وسیع اصلاحات متعارف کرائی گئیں۔ ترک حروفِ تہجی کی تبدیلی، نظامِ تعلیم کی تنظیمِ نو اور خواتین کے سیاسی حقوق میں توسیع ان اصلاحات کے نمایاں اقدامات میں شامل ہیں۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

صدر رجب طیب ایردوان نے گزشتہ برس یومِ جمہوریہ کے موقع پر اپنے پیغام میں قومی خودمختاری کو ترکیہ کی آزادی اور مستقبل کی بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے ترک شہریوں اور ترک قبرصی عوام کو مبارک باد پیش کی اور جمہوریہ کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک، جنگِ آزادی کے ہیروز اور شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

اس سال کی تقریبات میں موسیقی اور ثقافت کو بھی نمایاں مقام حاصل ہے۔ انقرہ میں صدارتی سمفنی آرکسٹرا کے ساتھ قازقستان کے معروف گلوکار دیمش قودایبرگن اور ترک دنیا کے دیگر فنکاروں کی پرفارمنس تقریبات کا حصہ ہے۔ صدارتی کمپلیکس میں ترک ریاستوں کی تنظیم کے رہنماؤں کے اعزاز میں خصوصی کنسرٹ بھی منعقد کیا جا رہا ہے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

استنبول میں یومِ جمہوریہ کی مناسبت سے پریڈ اور بحری سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ باسفورس میں صدارتی بین الاقوامی یاٹ ریس کا انعقاد بھی تقریبات میں شامل ہے۔ دوسری جانب، کوجالی میں عثمان غازی پل پر بین الاقوامی دوڑ کے ذریعے کھیلوں کا رنگ نمایاں ہے، جس میں 19 ممالک کے ایتھلیٹس شریک ہو رہے ہیں۔

ترکیہ میں یومِ جمہوریہ کی تقریبات کے ذریعے قومی تاریخ، ثقافتی ورثے اور اتحاد کے جذبے کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ یہ دن ترک عوام کے لیے جمہوریہ کے قیام کی جدوجہد، قومی خودمختاری اور جدید ترکیہ کی تشکیل کے تاریخی سفر کی یاد تازہ کرتا ہے۔

Read Previous

امریکہ کے ایران جنگ پر اخراجات 47.1 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے!اسلحے کے ذخائر کی بحالی کے لیے 29 ارب ڈالر درکار

Leave a Reply