ترکیہ اور بیلجیئم کے درمیان دفاعی تعلقات میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں ممالک نے دفاعی شعبے سے متعلق نو اہم معاہدوں پر دستخط کر دیے ہیں۔ بیلجیئم نے ان معاہدوں کو دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک شراکت داری میں ایک “بہت بڑا قدم” قرار دیا ہے۔
بیلجیئم کے وزیر دفاع تھیو فرانکن نے انقرہ میں ترک وزیرِ دفاع یاشار گلر سے ملاقات کے بعد خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج واقعی دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔
بیلجیئم کے وزیر دفاع نے بتایا کہ بدھ کے روز انقرہ میں چھ دفاعی صنعتی معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جبکہ مزید تین معاہدے پیر کے روز استنبول میں طے پائے تھے۔
بیلجیئم کی وزارت دفاع کے مطابق دونوں ممالک نے وزرائے دفاع کے درمیان ایک اعلیٰ سطحی مفاہمتی خط پر بھی دستخط کیے، جسے طویل المدتی اسٹریٹیجک دفاعی شراکت داری کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ترکیہ اور بیلجیئم کے درمیان دفاعی تعلقات اب صرف سیاسی مذاکرات تک محدود نہیں رہے بلکہ یہ عملی عسکری اور صنعتی تعاون میں تبدیل ہو رہے ہیں۔
بیلجیئم نے ترکیہ کی یورپی یونین کے 150 ارب یورو مالیت کے “سیف” دفاعی پروگرام تک رسائی کی بھی حمایت کی ہے، جس کا مقصد یورپ کی دفاعی صنعت اور عسکری تیاریوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
تھیو فرانکن نے اس موقع پر ترک ڈرونز خریدنے میں دلچسپی کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ دفاعی میدان میں ایک انتہائی مضبوط ملک ہے اور نیٹو میں دوسری بڑی فوجی طاقت ہونے کے باعث اس کی دفاعی صنعت کے ساتھ تعاون بے حد اہمیت رکھتا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی دفاعی خریداری کا فیصلہ یورپی قوانین اور ضابطوں کے مطابق کیا جائے گا۔
بیلجیئم کے وزیر دفاع کے مطابق دونوں ممالک اگلے سال مزید دفاعی معاہدوں پر دستخط کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ عسکری تعاون کو مزید وسعت دی جا سکے۔
دفاعی شعبے کے علاوہ بیلجیئم کے وفد نے بایوٹیکنالوجی، صحتِ عامہ، لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹ سمیت دیگر شعبوں میں بھی مختلف معاہدے کیے ہیں۔
مفاہمتی خط کے تحت دونوں ممالک دفاعی صنعت، فوجی تربیت اور عسکری صلاحیتوں کی ترقی میں تعاون بڑھائیں گے، جبکہ ترک افسران کو برسلز کی رائل ملٹری اکیڈمی میں تعلیم حاصل کرنے کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔
یہ ملاقات بیلجیئم کی ملکہ میتھلڈے کی قیادت میں جاری چار روزہ اقتصادی مشن کے دوران ہوئی، جس میں دفاعی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں شراکت داری کو فروغ دینے پر بات چیت کی گئی۔
