تحریر: شبانہ ایاز
ترکیہ میں خاندان کے تحفظ کی جنگ نے نیا موڑ لے لیا ہے۔
13 ستمبر 2026 کو ترک وزیرِ انصاف آکین گورلیک نے قوم کے سامنے جو اعلان کیا، وہ محض ایک عام پولیس کارروائی نہیں تھی۔
وہ اعلان تھا ’’Ailem Güvende‘‘ یعنی ’’میرا خاندان محفوظ ہے‘‘ آپریشن۔ پانچ صوبائی مراکز سے شروع ہو کر 15 صوبوں تک پھیلنے والی یہ کارروائی۔
نتیجہ؟ 162 مشتبہ افراد، 9 انجمنیں اور 13 کاروباری ادارے۔ سب کے خلاف عدالتی کارروائی۔
وزارتِ انصاف نے صاف صاف بتا دیا کہ تحقیقات کا دائرہ فحاشی، جسم فروشی میں معاونت، غیر قانونی مواد کی تیاری و ترسیل، منشیات اور بچوں کو ایسے مواد سے متاثر کرنے تک پھیلا ہوا ہے۔ ڈیجیٹل مواد قبضے میں لیا گیا، ویب سائٹس اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کیے گئے، اور سب سے اہم بات—کچھ انجمنوں کو بیرونِ ملک سے آنے والے فنڈز کی چھان بین شروع کر دی گئی۔ اور ان انجمنوں میں وہ نام بھی شامل ہیں جو برسوں سے ترکیہ میں LGBTQ ایجنڈے کو فروغ دے رہے تھے۔
یہ کوئی اتفاقیہ کارروائی نہیں۔ یہ صدر رجب طیب ایردوآن کے 2026 تا 2035 ’’خاندان اور آبادی کے عشرے‘‘ اور صدارتی سرکلر 2026/4 کا براہِ راست نتیجہ ہے۔
ایردوآن حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ ترکیہ میں خاندان کا تحفظ اب ریاستی ترجیح ہے۔ بچوں، نوجوانوں اور خاندانوں کو نشانہ بنانے والی سرگرمیوں کے خلاف ریاست خاموش نہیں بیٹھے گی۔
اب ذرا بنیادی بات کی طرف آتے ہیں۔ اسلامی معاشرتی تصور میں خاندان کیا حیثیت رکھتا ہے؟ یہ کوئی ثانوی چیز نہیں۔ یہ پورے معاشرتی ڈھانچے کی بنیاد ہے۔ نکاح، میاں بیوی کے حقوق، اولاد کی تربیت، والدین کا احترام—یہ سب مل کر ایک مضبوط نظام بناتے ہیں۔ قرآن مجید نے اس تعلق کو یوں بیان کیا:
’’اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔‘‘
(سورۃ الروم: 21)
اسلامی شریعت میں جنسی تعلق کا واحد جائز راستہ نکاح ہے۔ قومِ لوط کا واقعہ ہم جنس جنسی عمل کی حرمت کی سب سے واضح دلیل ہے۔ اسی بنیاد پر مسلم معاشروں کے مذہبی اور سماجی حلقے LGBTQ نظریات، ہم جنس شادی اور جدید صنفی تصورات کو روایتی خاندانی نظام کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک خاندان صرف دو افراد کا ذاتی معاملہ نہیں بلکہ نسلوں کی تربیت اور معاشرے کے مستقبل کی ضمانت ہے۔
ترکیہ جیسے ملک میں یہ تصور صرف مذہبی نہیں، ثقافتی اور تاریخی بھی ہے۔ صدیوں سے ترک معاشرہ خاندان کو استحکام کی بنیاد سمجھتا آیا ہے۔ اب جب مغربی تصورات کو زبردستی تھوپنے کی کوشش ہوتی ہے تو مزاحمت بھی پیدا ہوتی ہے۔
ترکیہ میں LGBTQ تحریک کی داستان۔۔۔
ترکیہ میں LGBTQ تنظیمی سرگرمیاں 1980 کی دہائی کے اواخر اور 1990 کی دہائی میں شروع ہوئیں۔۔ انقرہ میں Kaos GL اور استنبول میں Lambdaistanbul اس تحریک کے نمایاں نام بنے۔ 1987 میں استنبول میں ایک احتجاج ہوا۔ 1990 کی دہائی میں رسائل، مباحثے اور شہری حقوق کی سرگرمیاں تیز ہوئیں۔ 1993 میں استنبول پرائیڈ مارچ کی کوشش روک دی گئی۔ 2003 میں پہلا باقاعدہ مارچ ہوا۔ اس کے بعد یہ سرگرمیاں ترکیہ کی سماجی اور سیاسی بحث کا مستقل حصہ بن گئیں۔
حامی کہتے ہیں کہ وہ امتیاز کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں، صحت اور سماجی معاونت فراہم کر رہے ہیں اور قانونی تحفظ مانگ رہے ہیں۔ ناقدین کہتے ہیں کہ ان سرگرمیوں کے کچھ پہلو روایتی خاندانی اقدار اور اسلامی تعلیمات کے براہِ راست خلاف ہیں۔
ترکیہ میں LGBTQ حلقہ منظم ضرور ہے، لیکن خاندان اور روایتی اقدار کے تحفظ کی آواز بھی کمزور نہیں۔ 18ستمبر 2022 کو استنبول میں ’’Büyük Aile Buluşması‘‘ ہوا۔ 150 سے زائد سول سوسائٹی تنظیموں نے شرکت کی۔ منتظمین نے شرکا کی تعداد تقریباً 35,000 سے زائد بتائی۔ یہ کوئی معمولی اجتماع نہیں تھا۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ ترکیہ میں خاندانی اقدار کے دفاع کی منظم عوامی طاقت موجود ہے۔
اب اعداد و شمار دیکھیں۔ World Values Survey 2022 کے مطابق ترکیہ میں صرف 3 فیصد لوگوں نے ہم جنس پرستی کو قابلِ جواز قرار دیا۔ 78 فیصد نے اسے ناقابلِ جواز کہا۔ Pew Research Center کے 2025 میں شائع شدہ مطالعے (جو 2024 کے سروے پر مبنی ہے) میں ترکیہ کے 87 فیصد بالغ افراد نے واضح کیا کہ اگر ان کا بچہ خود کو gay یا lesbian ظاہر کرے تو وہ اسے برداشت نہیں کریں گے۔
یہ اعداد و شمار کسی تعبیر کے محتاج نہیں۔ ترکیہ میں روایتی خاندانی اقدار کی جڑیں اب بھی گہری ہیں۔
بعض حلقے مغربی ممالک اور بین الاقوامی اداروں پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ اپنے سماجی تصورات کو دوسرے معاشروں پر مسلط کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مغرب نے خود اپنا خاندانی نظام برباد کر لیا ہے اور اب مسلم معاشروں کو بھی اسی راستے پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
صدر رجب طیب ایردوآن برسوں سے ترکیہ میں آبادی کی کمی اور خاندان کے استحکام پر زور دے رہے ہیں۔ حکومت نے نوجوان جوڑوں کے لیے قرضے، شادی کی معاونت، بچوں کی پیدائش پر مالی مدد اور خاندانی پالیسیاں متعارف کرائی ہیں۔ 2025 کو ’’خاندان کا سال‘‘ قرار دیا گیا۔ 2026 سے 2035 تک خاندان اور آبادی کا عشرہ حکومتی وژن کا حصہ بنایا گیا۔
اب حقیقت دیکھیں۔ TÜİK کے مطابق 2024 میں ترکیہ کی کل زرخیزی کی شرح 1.48 بچے فی عورت رہی۔ متبادل سطح 2.10 ہے۔ یہ فرق معمولی نہیں۔ کم شرح پیدائش مستقبل کی افرادی قوت، عمر رسیدہ آبادی، پنشن سسٹم، صحت اور سماجی اخراجات پر براہِ راست اثر ڈالے گی۔ اسی لیے ترکیہ میں خاندان کا موضوع اب صرف مذہبی یا ثقافتی بحث نہیں رہا۔ یہ آبادیاتی اور معاشی پالیسی کا مسئلہ بن چکا ہے۔
13 ستمبر 2026 کی کارروائی نے خاندانی پالیسی کو قانون کے دائرے میں لا کھڑا کیا۔ 162 مشتبہ افراد، 9 انجمنیں، 13 کاروباری ادارے۔ تحقیقات میں جرائم اور غیر قانونی سرگرمیوں کے الزامات شامل تھے۔ بعض انجمنوں کے بیرونِ ملک فنڈز کی جانچ بھی جاری ہے۔
14 ستمبر کو ازمیر میں اسی سلسلے کی کارروائی ہوئی۔ 18 مشتبہ افراد میں سے 16 کو حراست میں رکھا گیا، دو کو عدالتی نگرانی پر رہا کیا گیا۔ یہ بتاتا ہے کہ ’’Ailem Güvende‘‘ صرف سیاسی نعرہ نہیں بلکہ حقیقی قانونی کارروائی ہے۔
ترکیہ میں پرائیڈ مارچوں پر پابندیوں کا سلسلہ بھی پرانا ہے۔ 2015 کے بعد استنبول سمیت مختلف شہروں میں مارچ روکے گئے یا محدود کیے گئے۔ 2017 میں انقرہ گورنری نے LGBTQ تقریبات پر غیر معینہ مدت کی پابندی عائد کی۔ حکومت انہیں عوامی نظم، معاشرتی اقدار اور خاندانی حساسیت سے جوڑتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں انہیں آزادی اظہار کے خلاف قرار دیتی ہیں۔
’’Ailem Güvende‘‘
میرا خاندان محفوظ ہے،
ترکیہ میں جاری وسیع تر قومی بحث کی علامت بن چکا ہے۔ ایک طرف حکومت خاندان، بچوں اور آبادی کے تحفظ کو ریاستی ذمہ داری قرار دے رہی ہے۔ دوسری طرف LGBTQ تنظیمیں اور انسانی حقوق کے حلقے شہری آزادیوں کے سوالات اٹھا رہے ہیں۔
اسلامی نقطۂ نظر سے خاندان، نکاح، عفت اور اولاد کی تربیت بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم جنس جنسی تعلقات اور ہم جنس شادی اسلامی اصولوں کے مطابق قابلِ قبول نہیں۔ ترکیہ میں خاندان کا تحفظ اب مذہبی، ثقافتی، آبادیاتی اور قومی مسئلہ بن چکا ہے۔ ایردوآن حکومت کی یہ کارروائی اسی بڑے وژن کا حصہ ہے جو ترکیہ کو روایتی اقدار کے ساتھ مستقبل کی طرف لے جانا چاہتی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ جنگ صرف ترکیہ تک محدود رہے گی یا دوسرے مسلم معاشروں میں بھی اس کے اثرات نظر آئیں گے۔
