ترکیہ کے ضلع دنیزلی کے علاقے چال میں ہر سال ایک منفرد اور قدیم ثقافتی روایت ادا کی جاتی ہے، جسے ”شیپ کراسنگ دی ریور“ یا ترکی زبان میں ”سودان کویون گچیرمے“ کہا جاتا ہے۔ یہ روایت گزشتہ 853 برس سے نسل در نسل جاری ہے اور اس میں چرواہے اپنے بھیڑوں کے ریوڑ کو دریائے بیوک مینڈریز کے پار لے جاتے ہیں۔ اس منفرد رسم کو ترکیہ کے ثقافتی ورثے کی اہم علامت سمجھا جاتا ہے اور اسے یونیسکو کی غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا ہے۔

اس روایت کے پیچھے ایک قدیم یوروک داستان بیان کی جاتی ہے۔ روایت کے مطابق قراقویونلو قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک چرواہا چال کے علاقے میں آ کر آباد ہوا اور مقامی اوغوز سردار کی بیٹی سے محبت کر بیٹھا۔ سردار نے شادی کی اجازت دینے کے بجائے چرواہے کے سامنے ایک مشکل شرط رکھ دی۔ اسے اپنی بھیڑوں کو مسلسل تین دن نمک کھلانا تھا اور پھر انہیں دریائے بیوک مینڈریز کے پار لے جانا تھا، وہ بھی اس طرح کہ بھیڑیں راستے میں دریا کا پانی نہ پئیں۔ چرواہے نے یہ مشکل کام کامیابی سے انجام دیا، تاہم سردار نے پھر بھی اپنی بیٹی کی شادی اس سے نہ کی۔ روایت کے مطابق لڑکی غم سے چل بسی، جبکہ دل شکستہ چرواہا باقی زندگی پہاڑوں میں بانسری بجاتا رہا۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
مقامی لوگوں نے بعد میں اس واقعے کو یاد رکھنے کے لیے ہر سال اس کا علامتی اعادہ شروع کیا، جو وقت کے ساتھ ایک باقاعدہ ثقافتی تہوار کی شکل اختیار کر گیا۔ رواں سال کی تقریب دریائے بیوک مینڈریز کے کوپرو باشی مقام پر منعقد کی گئی، جہاں 47 چرواہوں اور 63 بھیڑوں کے ریوڑ نے اس قدیم روایت میں حصہ لیا۔ اس طرح یہ رسم صرف ایک تاریخی قصے کی یادگار نہیں بلکہ مقامی خاندانوں اور چرواہوں کے درمیان نسل در نسل منتقل ہونے والی ثقافتی شناخت بھی بن چکی ہے۔

اس روایت کا ایک دلچسپ پہلو ”الچی“ نامی رہنما بھیڑ ہے۔ ہر ریوڑ میں ایک ایسی بھیڑ تیار کی جاتی ہے جو پورے ریوڑ کو دریا پار کرانے میں رہنمائی کرتی ہے۔ اس بھیڑ کی تربیت تقریباً ایک سال تک جاری رہتی ہے اور چرواہا روزانہ اس کے ساتھ وقت گزار کر اس کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کرتا ہے۔ تقریب سے چند روز قبل الچی بھیڑ کی اون کاٹی جاتی ہے اور اسے جامنی رنگ میں رنگا جاتا ہے، جو اس قدیم روایت کی خاص علامت سمجھا جاتا ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
چرواہوں کے لیے یہ تقریب محض ایک ثقافتی سرگرمی نہیں بلکہ تہوار کی حیثیت رکھتی ہے۔ مقامی چرواہے اس رسم کی تیاری کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں اور الچی بھیڑ کی تیاری میں کئی ماہ صرف کرتے ہیں۔ بعض چرواہوں کے مطابق اس بھیڑ اور چرواہے کے درمیان پیدا ہونے والا اعتماد اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ وہ عام دنوں میں بھی آواز دینے پر اپنے ریوڑ کو واپس چرواہے کی طرف لے آتی ہے۔ اس روایت میں بھیڑوں کو سجانے کا انداز بھی خاص اہمیت رکھتا ہے اور بعض چرواہے اسے شادی کی تیاریوں سے تشبیہ دیتے ہیں۔

اس 853 سالہ روایت کی ایک اور اہمیت یہ ہے کہ یہ ترکیہ کے دیہی معاشرے میں چرواہی، جانوروں اور قدرتی ماحول کے درمیان دیرینہ تعلق کو اجاگر کرتی ہے۔ گزشتہ برس شدید خشک سالی کے باعث دریائے بیوک مینڈریز کا بستر مکمل طور پر خشک ہو گیا تھا، جس کے نتیجے میں روایت روایتی انداز میں ادا نہیں کی جا سکی اور تقریب نے پانی کی قلت کی جانب بھی توجہ دلائی۔ رواں برس ہونے والی بارشوں سے دریا میں پانی کی سطح بہتر ہوئی، جس سے چرواہوں کو روایتی انداز میں ریوڑ پار کرانے میں آسانی ہوئی۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
دریائے بیوک مینڈریز کو عبور کرتے بھیڑوں کے ریوڑ کا یہ منظر آج ترکیہ کی ان منفرد ثقافتی روایات میں شمار ہوتا ہے جو صدیوں گزرنے کے باوجود اپنی شناخت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ترکیہ کی 853 سال پرانی بھیڑوں کو دریا پار کرانے کی روایت نہ صرف ایک قدیم لوک داستان کو زندہ رکھتی ہے بلکہ نئی نسل کو اپنے آبائی رسم و رواج، چرواہی کی ثقافت اور مقامی تاریخ سے جوڑنے کا ذریعہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال چرواہے اپنے ریوڑ کے ساتھ اس روایت کو دہراتے ہیں تاکہ صدیوں پرانا یہ ثقافتی ورثہ آئندہ نسلوں تک بھی منتقل ہوتا رہے۔
