Turkiya-Logo-top

ترکیہ کے انٹیلیجنس چیف کا پاکستان کا دورہ، افغانستان سمیت علاقائی سلامتی اور دوطرفہ سیکیورٹی تعاون پر بات چیت

ترکیہ کے نیشنل انٹیلیجنس ادارے کے سربراہ ابراہیم قالن نے جمعرات کو پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک سے ملاقاتیں کیں۔

انادولو ایجنسی کے مطابق ملاقاتوں میں ترکیہ اور پاکستان کے تعلقات، سکیورٹی کے شعبے میں تعاون اور علاقائی و عالمی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق فریقین نے مشرق وسطیٰ میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال، بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے خطے کے ممالک پر سیاسی، سکیورٹی اور معاشی اثرات کا بھی جائزہ لیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تنازعات کے دوسرے ممالک اور خطوں تک پھیلنے کے خطرے پر بھی بات چیت ہوئی۔ یمن اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ کشیدگی اور اس کے علاقائی استحکام پر ممکنہ اثرات بھی ملاقاتوں میں زیرِ بحث آئے۔

رپورٹ کے مطابق ترک اور پاکستانی حکام نے علاقائی استحکام کی بحالی کی کوششوں میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں ممالک نے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطے برقرار رکھنے میں اپنے کردار کے عزم کو بھی دہرایا۔

اس دورے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ مذاکرات میں پاکستان–افغانستان کشیدگی بھی براہِ راست زیر بحث آئی۔ ترک سکیورٹی ذرائع کے مطابق ترکیہ نے واضح کیا کہ وہ ماضی کی طرح پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے حل کرانے کے لیے اپنی تمام کوششیں جاری رکھے گا۔ دونوں ملکوں نے سکیورٹی اور انٹیلیجنس تعاون مزید بڑھانے پر بھی اتفاق کیا، جبکہ ترکیہ نے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں اور کیپیسٹی بلڈنگ کی حمایت جاری رکھنے پر زور دیا۔

ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی اور انٹیلی جنس کے شعبوں میں پہلے سے موجود اعلیٰ سطح کے تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ ترکیہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی حمایت جاری رکھنے اور پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیت مضبوط بنانے کی کوششوں میں تعاون کا بھی یقین دلایا۔

ابراہیم قالن کی اسلام آباد ملاقاتوں میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی زیر بحث آیا۔ ترک ذرائع کے مطابق علاقائی استحکام کی بحالی، سعودی عرب–یمن کشیدگی، امریکا و اسرائیل–ایران جنگ کے اثرات اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے تناظر میں مکہ دفاعی معاہدے کی اہمیت پر زور دیا گیا اور ترکیہ اور پاکستان کے سفارتی کردار پر گفتگو ہوئی۔

یاد رہے، ابراہیم قالن دورہ افغانستان کے ایک دن بعد پاکستان آئے ہیں۔ بدھ کے روز ابراہیم قالن نے افغانستان میں کابل اور قندھار کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے افغان انٹیلی جنس کے سربراہ عبدالحق وثیق، نائب وزیراعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر، وزیر دفاع محمد یعقوب مجاہد اور وزیر داخلہ سراج الدین حقانی سے ملاقاتیں کیں۔

ملاقاتوں میں ترکیہ اور افغانستان کے درمیان سکیورٹی اور انٹیلی جنس تعاون، انسداد دہشت گردی، انسانی اسمگلنگ اور منشیات کی تجارت کی روک تھام کے علاوہ علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

Read Previous

پاکستانی ڈیزائنر پریشے عدنان کا نیویارک فیشن ویک میں جلوہ، پرانے ملبوسات کو نئی زندگی دے دی

Read Next

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں دھماکہ، 5 پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 11 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

Leave a Reply