ترک وزیر دفاع حلوصی آقار اور امریکی وزیر دفاع کے درمیان دو طرفہ علاقائی دفاع اور سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا
ترک وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ ترکیہ اور امریکہ اہم اتحادی ہیں ۔ شمالی عراق اور شام میں ترکیہ کی سرحد پار کاروائیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق کے مطابق کی جا رہی ہیں تاکہ ترک قوم اور اس کی سرحدوں کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کارروائیوں کا واحد ہدف دہشت گرد تھے اور ترکیہ کبھی بھی اتحادی افواج یا عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا ہے، نہ ہی آگے کبھی بھی عام شہریوں کو نقصان پہنچائے گا
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون اور یکجہتی علاقائی اور عالمی امن و سلامتی میں معاون ثابت ہوگی، اس تناظر میں ترکیہ داعش اور دیگر تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف تعاون کے لیے تیار ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ترکیہ نے شمالی عراق اور شام میں آپریشن شروع کیا ۔ اور پی کے کے کی دہشت گرد تنظیم کے خلاف آپریشن کیا۔
20 نومبر کو فضائی آپریشن شروع کیے جانے کے بعد ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھی دہشت گردی کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے شمالی عراق اور شمالی شام میں زمینی کارروائی کا عندیہ دیا تھا
