پاکستان اور ترکیہ نے اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور علمی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے طلبہ اور جامعات کے لیے تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ترکیہ کے پاکستان میں سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کی جامعات کے درمیان باہمی روابط، مشترکہ تعلیمی و تحقیقی منصوبوں، علمی تبادلے اور طلبہ و اساتذہ کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے پر زور دیا گیا۔ دونوں جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کو پاکستان ترکیہ تعلقات میں مزید مضبوط پل کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
رواں سال مارچ میں بھی ترکیہ کی مختلف جامعات کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے سفیر عرفان نذیر اوغلو کی قیادت میں HEC کا دورہ کیا تھا، جہاں پاکستانی اور ترک جامعات کے درمیان تعاون بڑھانے پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ اس موقع پر مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور ڈیجیٹلائزیشن جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں کے علاوہ طب، زراعت، طبیعیات، بائیوٹیکنالوجی، فارماسیوٹیکل، سماجی علوم اور اردو و ترک زبانوں کے شعبوں میں مشترکہ تحقیق کے امکانات پر بھی اتفاق کیا گیا تھا۔
پاکستان اور ترکیہ کے تعلیمی اداروں کے درمیان طلبہ اور اساتذہ کے تبادلے، مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور ادارہ جاتی روابط کے فروغ پر بھی مسلسل پیش رفت ہو رہی ہے۔ رواں سال ترک جامعات کے وفد کے دورہ پاکستان کے دوران بھی مشترکہ اکیڈمک منصوبوں، طلبہ و فیکلٹی ایکسچینج پروگرامز اور ادارہ جاتی تعاون کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
موجودہ ملاقات میں بھی اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے شعبوں میں تعاون کو مزید منظم اور مؤثر بنانے پر زور دیا گیا۔
HEC چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر کی جانب سے بھی پاکستان ترکیہ تعلیمی و تحقیقی روابط کو مزید مستحکم کرنے اور پاکستانی جامعات و طلبہ کے لیے بین الاقوامی تعلیمی مواقع بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بڑھتا ہوا تعلیمی تعاون دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو علمی اور تحقیقی سطح پر مزید مستحکم کرنے کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
