turky-urdu-logo

ترکیہ نیٹو میں کسی دوسری ریاست کو قبول نہیں کرئے گا جو ہمارے ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہو،مصطفی سینتوپ

ترک پارلیمنٹ اسپیکر مصطفی سینتوپ کا کہنا ہے کہ ترکیہ نیٹو میں کسی دوسری ریاست کو قبول نہیں کرئے گا جو ہمارے ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہو۔

مصطفی سینتوپ نے دارالحکومت انقرہ میں میڈیا سےبات کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسی تنظیم جس کا مقصد ترکیہ کی سلامتی کو مضبوط کرنا ہوہم کسی بھی ایسے ملک کے داخلے کو قبول نہیں کریں گے جو ہمارے ملک کے لیے خطرہ ہو۔

انکا کہنا تھا کہ سویڈن کو پی کے کے دہشت گرد گروپ اور اسکی شاخوں کے بارے میں ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، جو یورپی یونین میں دہشت گرد گروپ کے طور پر نامزد ہونے کے باوجود اسٹاک ہوم میں اشتعال انگیز مظاہرے کر رہے ہیں۔

لیکن، بدقسمتی سے، ایسا لگتا ہے کہ سویڈن ایسا نہیں کرے گا۔

سویڈن میں مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن پاک کو نذر آتش کرنے پر بات کرتے ہوئے سینتوپ کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام مقدس کتابوں کا اسی طرح احترام کیا جائے۔ تورات کو جلانے کی کوشش کی گئی اور ہم کہتے ہیں کہ یہ غلط ہے۔ ہم تمام مقدس کتابوں کی توہین کو مسترد کرتے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ کسی کتاب کو جلانا اپنے آپ میں غلط ہے۔ آپ تنقید کا اظہار کر سکتے ہیں، لیکن کتاب کو جلانا ایک قدیم طریقہ ہے جو انکوزیشن کے دور اور ہٹلر کے دور کی یاد دلاتا ہے۔

سویڈن اور فن لینڈ نے گزشتہ مئی میں باضابطہ طور پر نیٹو میں شمولیت کے لیے درخواست دی تھی، یہ فیصلہ روس کی یوکرین کے خلاف جنگ سے ہوا، جو 24 فروری 2022 کو شروع ہوئی تھی۔

لیکن ترکیہ جو کہ 70 سال سے زیادہ عرصے سے نیٹو کا رکن ہے اس نے اسکی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ممالک دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دیتے ہیں۔

جون میں ترکیہ  اور دونوں ممالک نے انقرہ کے جائز سیکورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے نیٹو کے سربراہی اجلاس میں ایک یادداشت پر دستخط کیے، جس سے اتحاد میں ان کی حتمی رکنیت کی راہ ہموار ہوئی۔

لیکن ترک حکام کا کہنا ہے کہ ممالک بالخصوص سویڈن نے ابھی تک دہشت گردی کے خلاف ضروری اقدامات نہیں کیے ہیں۔

انقرہ نے سویڈن سے الگ فن لینڈ کی نیٹو رکنیت کی درخواست پر غور کرنے کا اشارہ بھی دیا ہے۔

Alkhidmat

Read Previous

برطانیہ:بڑھتی مہنگائی کے خلاف 5 لاکھ افراد سڑکوں پرنکل آئے

Read Next

ہمارا مقصد ترکیہ کے ہر کونے تک نقل و حمل کو آسان بنانا ہے، صدر ایردوان

Leave a Reply