انقرہ: ترکیہ اور سعودی عرب نے اپنے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک بڑا سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے سفارتی اور خصوصی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا چھوٹ کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔
یہ اہم پیش رفت انقرہ میں منعقد ہونے والے ترک-سعودی رابطہ کونسل کے تیسرے اجلاس کے دوران سامنے آئی، جہاں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے مختلف دوطرفہ اور علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
اعلیٰ سطحی ملاقات اور ویزا استثنیٰ
اجلاس کے موقع پر ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے اپنے سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان ال سعود سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے باضابطہ طور پر “Turkey Saudi Visa Exemption Agreement” پر دستخط کیے۔
- اس معاہدے کے تحت سفارتی اور خصوصی پاسپورٹ رکھنے والے شہریوں کو ویزا کی شرط سے مکمل استثنیٰ حاصل ہو گا۔
- اس اقدام کا بنیادی مقصد سرکاری وفود کی آمد و رفت کو سہل بنانا اور دوطرفہ سفارتی روابط کو مزید فروغ دینا ہے۔
ترک-سعودی رابطہ کونسل: ایک تزویراتی پلیٹ فارم
ترک-سعودی رابطہ کونسل دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک شراکت داری کا ایک کلیدی ذریعہ ہے:
- اس کونسل کا قیام 2016 میں عمل میں لایا گیا تھا۔
- پہلا اجلاس 2017 میں انقرہ، جبکہ دوسرا اجلاس مئی 2025 میں ریاض میں منعقد ہوا۔
- یہ کونسل سیاسی، دفاعی، معاشی، ثقافتی اور توانائی سمیت متعدد اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے کام کر رہی ہے۔
تجارتی تعلقات میں نمایاں بہتری
گزشتہ چند برسوں کے دوران ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعاون میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
- دونوں ممالک نے تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں ایک دوسرے کے قریب آنے کی بھرپور کوششیں کی ہیں۔
- 2025 کے اختتام تک دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم 8.5 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ چکا ہے۔
تجزیہ اور اہمیت
یہ ویزا معاہدہ محض ایک سفری سہولت نہیں بلکہ دونوں برادر ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے باہمی اعتماد اور اسٹریٹیجک شراکت داری کی ایک ٹھوس علامت ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ اقدام مستقبل میں دفاعی اور معاشی شعبوں میں مزید بڑے معاہدوں کی راہ ہموار کرے گا۔
