Turkiya-Logo-top

بنگال میں مسلمانوں کی ووٹنگ لسٹیں غائب، بی جے پی کارکنان کا مساجد پر حملہ

کولکتہ: بھارت کی مشرقی ریاست مغربی بنگال میں 2026 کے اسمبلی انتخابات نے جمہوری عمل، اقلیتی حقوق اور انتخابی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انتخابات سے قبل مسلم اکثریتی علاقوں میں ووٹر فہرستوں سے لاکھوں ناموں کا اخراج اور نتائج کے بعد ہونے والے پرتشدد واقعات نے ریاست کا سیاسی اور سماجی ماحول شدید کشیدہ کر دیا ہے۔

ووٹر فہرستوں سے 90 لاکھ ناموں کا اخراج

الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے مغربی بنگال انتخابات 2026 سے قبل ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کی گئی، جسے باضابطہ طور پر “اسپیشل انٹینسیو ریویژن” (Special Intensive Revision) کا نام دیا گیا۔

  • اس طویل عمل کے دوران ریاست بھر سے تقریباً 90 لاکھ افراد کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے۔
  • رپورٹس کے مطابق، اس کٹوتی سے مسلم آبادی والے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
  • متعدد مسلم خاندانوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس شہریت اور رہائش کی مکمل قانونی دستاویزات موجود ہونے کے باوجود ان کے نام ووٹر لسٹ سے نکال دیے گئے، جس کے باعث انہیں اپنا جمہوری حق استعمال کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

الیکشن کمیشن کا مؤقف: دوسری جانب الیکشن کمیشن آف انڈیا کا کہنا ہے کہ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کا بنیادی مقصد جعلی، دہرے (ڈپلیکیٹ) یا فوت شدہ ووٹرز کا ڈیٹا بیس سے صفایا کرنا تھا تاکہ انتخابات کی شفافیت کو سو فیصد یقینی بنایا جا سکے۔

انتخابی نتائج کے بعد کشیدگی اور مساجد پر حملے

انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد ریاست کے مختلف حصوں میں سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی متعدد ویڈیوز اور رپورٹس میں الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ بی جے پی کارکنان کی جانب سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور مذہبی بنیادوں پر تشدد کیا جا رہا ہے۔

  • الجزیرہ کی رپورٹ: عالمی خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق، مغربی بنگال کے مختلف اضلاع میں انتخابی نتائج کے بعد توڑ پھوڑ، سیاسی جھڑپوں اور مذہبی کشیدگی کے متعدد واقعات پیش آئے۔
  • مساجد کی بے حرمتی: سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے مواد میں یہ دعویٰ شدت سے کیا جا رہا ہے کہ بعض علاقوں میں شرپسندوں نے مساجد کو بھی نشانہ بنایا ہے، جن میں خاص طور پر ‘جوروپاکری کی جامع مسجد’ پر حملے کا ذکر نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔

اپوزیشن اور مسلم تنظیموں کا شدید ردعمل

ریاست میں پیدا ہونے والی اس تشویشناک صورتحال پر اپوزیشن جماعتوں اور مسلم تنظیموں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے لاکھوں ناموں کے اخراج اور اس کے بعد ہونے والے پرتشدد واقعات کو سیاسی اور مذہبی بنیادوں پر کی جانے والی ‘تفرقہ وارانہ کارروائی’ قرار دیا ہے۔

مستقبل کے خدشات: مغربی بنگال کی اس کشیدہ صورتحال اور سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلنے والی غیر مصدقہ معلومات نے ریاست کے ماحول کو مزید پراگندہ کر دیا ہے، جس سے اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے اور ملکی سطح پر جمہوری اقدار کی پاسداری پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

Read Previous

استنبول میں عالمی سطح کی دفاعی نمائش؛ SAHA EXPO 2026 کا پہلا روز

Leave a Reply