fbpx
ozIstanbul

ترکی طالبان کے ساتھ افغان امن پر تبادلہ خیال کے لیے تیار ہے،صدر اردوغان

شمالی قبرص میں تقریر کرتے ہوئے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا کہ ترکی افغانستان میں ایک بڑے ہوائی اڈے پر کام کرنے پر غور کر رہا ہے اور ترکی طالبان کے ساتھ افغان امن عمل پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے تیار ہے۔

عید کی نماز کے بعد صدر اردوغان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح طالبان نے امریکہ سے بات چیت کی تھی ویسے ہی طالبان کو ان مذاکرات پر ترکی سے بھی آرام سے بات چیت کرنی چاہیے۔

قطری دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے اہم افغان امن مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے اردوغان کا کہنا تھا کہ ہم اس عمل کا اچھا استعمال کریں گے۔اسکے علاؤہ اور بہت سے طریقے ہیں اور ہم ان طریقوں پر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کچھ شرائط ہماری مان لی جائیں تو ترکی کابل ائیر پورٹ کا کام سنبھالے پر غور کر سکتا ہے۔

صدر اردوغان کا مزید کہنا تھا کہ اب ایک نیا دور ہے اور یہاں تین اہم احکام نظر آ رہے ہیں نیٹو ، امریکہ اور ترکی۔

اردوغان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے خطے سے دستبرداری کے فیصلے کا اعلان کیا ہے اور واشنگٹن چاہتا ہے کہ کابل ائیر پورٹ ترکی چلائے جیسا کہ وہ کئی سالوں سے چلاتا آ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم فی الحال اسکو مثبت انداز سے دیکھ رہیں مگر ترکی کی کچھ شرائط ہیں۔

اردوغان نے شرائط کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے تو امریکہ سفارتی تعلقات میں سفارت کاری کے نقطہ پر ہمارے ساتھ ہوگا۔

دوم یہ کہ امریکہ لاجسٹک پوائنٹس پر ہمارے لیے ذرائع اکھٹا کرے گا اور لاجسٹک سے متعلق جو بھی طاقت ہے وہ ترکی کو منتقل کرے گا۔

اور آخر میں اردوغان کا کہنا تھا کہ ترکی کو اس عمل کے دوران مالی اور انتظامی مدد کی ضرورت ہوگی۔

افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بارے میں افغان افواج اور طالبان کے مابین شدید لڑائی جاری ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجی مشن 31 اگست کو اختتام پذیر ہو جائے گا۔

امریکہ کے انخلا کے بعد ائیر پورٹ سیکورٹی کے بارے میں امریکہ اور ترکی کے درمیان بات چیت جاری ہے۔

انقرہ نیٹو کے زیر قیادت ریزولوٹ سپورٹ مشن کے ایک حصے کے طور پر چھ سالوں سے کابل ائیر پورٹ پر فوجی اور لاجسٹک آپریشن چلا رہا ہے۔

ترکی نے امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا کے بعد کابل ائیر پورٹ کی سیکورٹی کی ذمہ داری لینے کی پیشکش کی تھی جس کے بعد سے امریکی اور ترک حکومت ا س حوالے سے رابطے میں ہے۔

گزشتہ ہفتے طالبان نے ترکی کو انتباہ کیا تھا کہ افغان ائیر پورٹ پر ترک فوج کی موجودگی سے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

صدر ایردوان سے جب طالبان کے اس بیان کے متعلق پوچھا گیا تو صدر کا کہنا تھا کہ اس بیان میں "ہمیں ترکی کی ضرورت نہیں ہے ” ایسا کوئی جملہ نہیں ہے ۔

پچھلا پڑھیں

امریکا :افغان امن عمل کی حمایت کے لیے ٹھوس اقدامات کی اہمیت پر زور

اگلا پڑھیں

ترک صدر ایردوان کا یورپی عدالت کے حجاب سے متعلق فیصلے پر شدید رد عمل

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے