fbpx

کورونا وائرس نے دنیا کو سیاسی اور سماجی ابتری کا شکار کر دیا، صدر ایردوان

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی سے دنیا سیاسی اور سماجی ابتری کا شکار ہو گئی لیکن ان حالات میں بھی ترکی نے کوئی سمجھوتہ کئے بغیر ترقیاتی ایجنڈے پر کام جاری رکھا۔

وہ انقرہ کے صدارتی محل سے ترکی کے مشرقی علاقے دیارباکر ۔ارغنی۔الزیغ روڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی کے لئے کلیدی ترقیاتی منصوبے مکمل کئے جا رہے ہیں۔ سڑکوں کا جال بچھایا جا رہا ہے جس سے ایک طرف نقل و حمل کی لاگت میں کمی آئے گی اور دوسری طرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

خلا میں ترک سیٹلائٹ 5 اے کی لانچنگ پر انہوں نے کہا کہ ترکی خلائی سائنس میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ آئندہ سال تک ترکی نہ صرف مقامی طور پر سیٹلائٹ تیار کرلے گا بلکہ اسے خلا میں بھیجنے کی پوری ٹیکنالوجی بھی حاصل ہو جائے گی جس کے بعد ترکی کو کسی دوسرے ملک کی ٹیکنالوجی پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔

انہوں نے یورپین یونین اور امریکہ کی طرف سے ترکی پر پابندی لگانے کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جو ممالک ترکی میں جمہوریت کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے آج ان کے اپنے ملک میں جمہوری اداروں پر حملے ہو رہے ہیں۔ جب ترکی دہشت گردی کے خلاف جنگ سے نبرد آزما تھا اس وقت کچھ ممالک ترکی کو نقصان پہنچانے میں مصروف تھے لیکن آج ان ممالک کی اپنی معیشتیں اور جمہوریتیں خطرے میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی کانگریس پر حملہ اس صدی کا سب سے بڑا اور افسوسناک واقعہ ہے۔ خود کو جمہوریت کا چیمپئن سمجھنے والے آج اپنے جمہوری اداروں پر حملے ہوتے دیکھ رہے ہیں۔

صدر ایردوان نے کہا کہ دنیا میں ہونے والے واقعات اب اس بات کا تقاضا کر رہے ہیں کہ مغربی ممالک کو جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادی پر فیصلے کرنے ہوں گے۔ آج کے انسان کو نسل، رنگ، مذہب، فرقے اور ثقافت سے بالاتر ہو کر دیگر انسانوں کی خدمت کا جذبہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ترکوں کو اس بات پر فخر ہے کہ ہمارے آباوْ اجداد نے انہیں روایات کو سامنے رکھتے ہوئے کئی صدیوں تک حکومت کی اور ان کی مثالیں آج دنیا میں دی جاتی ہیں۔ اسی ورثے کو ہماری حکومت اور قوم نے اپنایا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا میں جب تمام ممالک اپنے اپنے خول میں بند ہو گئے تھے اس وقت ترکی نے دنیا کے 150 سے زائد ممالک کی مدد کی۔ آج ترکی کے امدادی اور خیراتی ادارے غریب ممالک میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور اپنے آباوْ اجداد کی روایات کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔

پچھلا پڑھیں

انڈونیشیا کا مسافر طیارہ لاپتہ

اگلا پڑھیں

وٹس ایپ پالیسی میں تبدیلی: ترکی نے موبائل مسیجنگ کی اپنی ایپس تیار کر لیں

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے