استنبول: ترکیہ کی دفاعی صنعت نے عالمی مارکیٹ میں ایک اور شاندار سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ مشہورِ زمانہ ‘بائیکار’ (Baykar) گروپ کے تیار کردہ ترکیہ کے پہلے بغیر پائلٹ کے لڑاکا طیارے ‘قزل ایلما’ (KIZILELMA) کی برآمد کے لیے انڈونیشیا کے ساتھ ایک تاریخی دفاعی معاہدہ طے پا گیا ہے۔
انڈونیشیا اپنی فضائی حدود کی حفاظت اور فوجی جدید کاری کے پروگرام کے تحت ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون میں تیزی لا رہا ہے۔ جکارتہ اس سے قبل بھی بائیکار کے Akıncı، Anka اور Bayraktar TB2 ڈرونز خرید چکا ہے، لیکن ‘قزل ایلما’ کا یہ معاہدہ اس دوطرفہ تعاون کو ایک بالکل نئی اسٹریٹجک سطح پر لے گیا ہے۔

تاریخی معاہدے کی تفصیلات (ساہا ایکسپو 2026)
یہ اہم ترین معاہدہ آج 6 مئی 2026 کو استنبول کے ایکسپو سینٹر میں منعقد ہونے والی عالمی دفاعی نمائش ‘SAHA EXPO’ میں طے پایا۔
- فریقین: معاہدے پر ترکیہ کی مایہ ناز دفاعی کمپنی ‘بائیکار’ (Baykar) اور انڈونیشیائی کمپنی ‘ریپبلک کارپ’ (Republikorp) کے درمیان باضابطہ دستخط ہوئے۔
- طیاروں کی تعداد: ابتدائی طور پر انڈونیشیا کو 12 ‘قزل ایلما’ طیارے فراہم کیے جائیں گے۔ مستقبل میں اس تعداد کو 4 سکواڈرن، یعنی مجموعی طور پر 48 طیاروں تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
- ڈیلیوری: ان جدید طیاروں کی انڈونیشیا کو باقاعدہ فراہمی سال 2028 سے شروع ہونے کا منصوبہ ہے۔
بائیکار گروپ کے چیئرمین ہالُک بائیراکتار نے اس شاندار کامیابی پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے تصدیق کی کہ یہ ‘KIZILELMA’ کے لیے دنیا کا پہلا برآمدی معاہدہ ہے۔
قزل ایلما (KIZILELMA) کی لرزہ خیز خصوصیات
یہ طیارہ روایتی ڈرونز سے یکسر مختلف اور جدید ترین لڑاکا طیاروں (Fighter Jets) کے قریب تر ہے۔ اس کی نمایاں فنی خصوصیات درج ذیل ہیں:

- اسٹیلتھ ڈیزائن (Stealth): یہ ریڈار کی نظروں سے بچنے کی غیر معمولی صلاحیت (Low Observability) رکھتا ہے۔
- تیز رفتاری (Supersonic): یہ طیارہ آواز کی رفتار کے قریب یا اس سے تیز پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
- آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI): خودمختار ٹیکنالوجی سے لیس یہ طیارہ انسانی مداخلت کے بغیر انتہائی پیچیدہ فضائی مشن بآسانی انجام دے سکتا ہے۔
- خوفناک وار ہیڈز: یہ فضا سے فضا (Air-to-Air) اور فضا سے زمین (Air-to-Ground) پر ہدف کو نشانہ بنانے والے جدید ترین میزائلوں سے لیس ہو سکتا ہے۔
انڈونیشیا کے لیے اس معاہدے کی اسٹریٹجک اہمیت
دفاعی ماہرین کے مطابق، انڈونیشیا کے لیے ‘قزل ایلما’ کا انتخاب انتہائی اہمیت کا حامل ہے:


- بحیرہ ہند میں برتری: انڈونیشیا کے وسیع و عریض جزائر کی حفاظت کے لیے ایک ایسے طیارے کی ضرورت تھی جو طویل فاصلے تک جاسوسی اور حملے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہو۔
- کم لاگت متبادل: یہ طیارہ امریکی F-35 یا دیگر مہنگے اسٹیلتھ طیاروں کے مقابلے میں انتہائی سستا اور کارگر متبادل ثابت ہو رہا ہے۔
- ٹیکنالوجی کی منتقلی (Tech Transfer): انڈونیشیا محض خریدار نہیں بلکہ مشترکہ پیداوار (Co-production) میں بھی شامل ہے۔ بائیکار گروپ نے انڈونیشیا کو مقامی طور پر مرمت اور دیکھ بھال (MRO) کی سہولیات فراہم کرنے کی مکمل یقین دہانی کرائی ہے۔
ایشیائی خطے میں طاقت کا نیا توازن
یہ معاہدہ ترکیہ کی ‘دفاعی سفارت کاری’ (Defense Diplomacy) کی ایک بڑی اور واضح کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے بعد اب جنوب مشرقی ایشیا ترکیہ کے لیے ایک بہت بڑی مارکیٹ بن کر ابھرا ہے۔
علاوہ ازیں، قزل ایلما کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ترکیہ کے طیارہ بردار بحری جہاز TCG Anadolu جیسے چھوٹے رن وے والے جہازوں سے بھی اڑان بھر سکتا ہے، جس میں انڈونیشیا کی بحریہ نے گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔
خلاصہ: ترکیہ اور انڈونیشیا کا یہ معاہدہ ایشیا بحرالکاہل کے خطے میں طاقت کے توازن کو نمایاں طور پر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ نہ صرف بائیکار کی ایک تاریخی تجارتی کامیابی ہے، بلکہ عالمی سطح پر ترکیہ کے ایک "ٹیکنالوجی سپر پاور” بننے کی ناقابلِ تردید علامت بھی ہے۔
