Turkiya-Logo-top

الجزائر کے صدر کا تاریخی دورہِ ترکیہ؛ صدر ایردوان نے غیر روایتی طور پر استقبال کیا، اعلیٰ ریاستی اعزاز سے نوازا

انقرہ: الجزائر کے صدر عبدالمجید تبون بدھ (6 مئی 2026) کو تین روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ پہنچے۔ اس دورے کی خاص بات صدر رجب طیب ایردوان کا وہ غیر روایتی اور تاریخی استقبال تھا جس نے عالمی سفارتی حلقوں کی توجہ سمیٹ لی۔

عمومی اور روایتی پروٹوکول کے تحت صدر ایردوان غیر ملکی رہنماؤں کا استقبال ‘ایوانِ صدر’ میں کرتے ہیں، تاہم صدر تبون سے گہری دوستی اور ان کی ترکیہ سے محبت کے پیشِ نظر، صدر ایردوان نے تمام روایات سے ہٹ کر ایسن بوغا انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر ان کا بذاتِ خود استقبال کر کے اس دورے کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کیا۔ ایئرپورٹ پر صدر تبون کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور صدارتی لاؤنج میں دونوں رہنماؤں کی مختصر بیٹھک بھی ہوئی۔

اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل کا اجلاس اور اہم معاہدے

اگلے روز (7 مئی بروز جمعرات) ایوانِ صدر میں الجزائر کے صدر کا باضابطہ استقبال کیا گیا، جہاں انہیں 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔ اس کے بعد دونوں صدور کی مشترکہ صدارت میں "الجزائر-ترکیہ ہائی لیول اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل” کا پہلا باقاعدہ اجلاس منعقد ہوا۔

مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں درج ذیل اہم اعلانات کیے گئے:

  • 10 ارب ڈالر کا تجارتی ہدف: صدر ایردوان نے اعلان کیا کہ دونوں ممالک نے باہمی تجارت کے حجم کو 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ سال 2026 تجارت اور سرمایہ کاری میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔
  • ترک سرمایہ کاری اور اقتصادی پارٹنرشپ: الجزائر میں 600 سے زائد منصوبوں میں مصروفِ عمل ترک کمپنیوں کی کارکردگی کو سراہا گیا۔ صدر ایردوان نے الجزائر کو شمالی افریقہ میں ترکیہ کا "اہم ترین اقتصادی پارٹنر” قرار دیا۔
  • دفاع اور توانائی میں تعاون: ملاقات کے دوران دفاعی صنعت، قدرتی گیس اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

غزہ پر مشترکہ مؤقف اور علاقائی استحکام

عالمی اور علاقائی مسائل پر بات کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے غزہ کی تشویشناک صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا:

  • صدر ایردوان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اسرائیلی جارحیت نے ثابت کر دیا ہے کہ خطے کے امن کو اصل خطرہ موجودہ اسرائیلی حکومت کی توسیع پسندانہ، لاقانونیت اور اصول شکنی کی پالیسیوں سے ہے۔
  • دونوں رہنماؤں نے اس تشدد کو ختم کرنے کے لیے عالمی برادری پر دباؤ ڈالنے اور ایک مشترکہ مؤقف اپنانے کا اعلان کیا۔
  • اس کے علاوہ لیبیا اور ساحل (Sahel) کے خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

اعلیٰ ترین ریاستی اعزاز "آرڈر آف دی اسٹیٹ”

پریس کانفرنس کے بعد ایوانِ صدر میں ایک پروقار دعوتی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ترکیہ اور الجزائر کے گہرے برادرانہ تعلقات کی علامت کے طور پر، صدر ایردوان نے صدر عبدالمجید تبون کو ترکیہ کے اعلیٰ ترین ریاستی اعزاز "آرڈر آف دی اسٹیٹ” (State Order of the Republic of Türkiye) سے نوازا۔

  • اعزاز کی اہمیت: یہ تمغہ ترکیہ کا وہ بلند ترین اعزاز ہے جو کسی دوسرے ملک کے سربراہ کو دوستی اور تعلقات کی مضبوطی کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔
  • مشترکہ وژن: دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ محض ایک ایوارڈ نہیں، بلکہ دونوں قوموں کے درمیان صدیوں پرانے عثمانی ورثے اور مستقبل کے مضبوط تزویراتی (اسٹریٹجک) تعاون کا پختہ عہد ہے۔

Read Previous

ترکیہ اور انڈونیشیا کے مابین اہم دفاعی معاہدہ؛ انڈونیشیا نے ترکیہ کے تیار کردہ سٹیلتھ "قزل ایلما” UCAV طیارے خرید لیے

Read Next

ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ آئی سے صدر مسعود پزشکیان کی پہلی ملاقات؛ صحتیابی کی تصدیق کر دی

Leave a Reply