Turkiya-Logo-top

ترکیہ کا تاریخی اقدام: 15 سال سے کم عمر بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ‘ڈیجیٹل شیلڈ’ کا نفاذ

انقرہ: سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات اور بچوں کو درپیش سنگین آن لائن خطرات کے پیشِ نظر ترکیہ کی حکومت نے ایک انتہائی اہم پالیسی اقدام کا اعلان کیا ہے۔ ترکیہ کی وزیر برائے خاندانی و سماجی خدمات مہینور اوزدمیر گوکتاش (Mahinur Özdemir Göktaş) نے بتایا ہے کہ حکومت نے 15 سال سے کم عمر بچوں کی حفاظت کے لیے “ڈیجیٹل کَلکان” (ڈیجیٹل تحفظی ڈھال / Digital Shield) تشکیل دے دی ہے۔

"بچوں کے کمرے کی خاموشی سکون نہیں، خطرہ ہو سکتی ہے”

انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ترک وزیر نے موجودہ دور کے سب سے بڑے تضاد کی جانب اشارہ کیا:

"یہ کیسا نظام ہے جہاں ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے اور ووٹ دینے کی قانونی عمر تو 18 سال ہے، لیکن ایک خطرناک اور بے قابو سوشل میڈیا تک رسائی محض 6 سال کی عمر میں ہی ممکن ہو جاتی ہے؟”

انہوں نے والدین کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں خطرہ صرف گلیوں یا بازاروں تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ اسکرینز کے ذریعے ہمارے گھروں اور بچوں کے بیڈ رومز تک پہنچ چکا ہے۔ والدین اکثر بچوں کے کمرے کی خاموشی کو ‘سکون’ سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ وہ خاموشی ایک انتہائی خطرناک ڈیجیٹل دنیا سے جڑی ہو سکتی ہے۔

‘سوشل رسک میپ’ (Social Risk Map): ایک ابتدائی وارننگ سسٹم

وزیرِ سماجی خدمات نے انکشاف کیا کہ حکومت گزشتہ ڈیڑھ سال سے ایک انتہائی جدید “سوشل رسک میپ” پر کام کر رہی ہے، جس کے تحت اب تک 35 میں سے 14 نقشے مکمل کیے جا چکے ہیں۔

  • خطرات کا سائنسی تجزیہ: اس نظام میں 648 مختلف سماجی، معاشی اور نفسیاتی اشاریوں (Indicators) کی مدد سے ملک بھر میں صوبے، اضلاع، محلوں اور حتیٰ کہ گھروں کی سطح تک خطرات کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
  • مقاصد: اس کا اصل مقصد خواتین پر تشدد، بچوں کا جرائم میں ملوث ہونا اور دیگر سماجی مسائل کی پیشگی نشاندہی کرنا ہے۔
  • کامیاب تجربہ: باتمان (Batman) صوبے کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہاں اس سسٹم کے ذریعے نشے سے متعلق خطرات کی بروقت نشاندہی کی گئی، جس کے بعد 40 افراد کو روزگار فراہم کیا گیا اور 79 افراد کو علاج کے لیے قائل کیا گیا۔

تشویشناک اعداد و شمار: گھٹتی توجہ اور پرتشدد گیمز

حکومتی مطالعات کے مطابق بچوں کے حوالے سے درج ذیل تشویشناک حقائق سامنے آئے ہیں:

  • بچے روزانہ اوسطاً 3 سے 5 گھنٹے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر گزارتے ہیں۔
  • اسکرینز کی وجہ سے بچوں کی توجہ کا دورانیہ (Attention Span) کم ہو کر محض 8 سیکنڈ رہ گیا ہے۔
  • آن لائن گیمز میں بچے زیادہ تر پرتشدد کرداروں کا انتخاب کرتے ہیں، جو ان کی نفسیات کو تباہ کر رہا ہے۔
  • سوشل میڈیا پر عمر کی حد نہ ہونے کے باعث کم عمر بچے انجانے میں بالغ اور خطرناک افراد کے رابطے میں آ رہے ہیں۔

والدین کے لیے حکومتی ایکشن پلان اور اپیل

وزیر مہینور اوزدمیر نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد ٹیکنالوجی پر مکمل پابندی لگانا نہیں، بلکہ اس کے محفوظ استعمال کو یقینی بنانا ہے۔ شانلی عرفہ (Şanlıurfa) اور کہرامان ماراش (Kahramanmaraş) میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کے بعد حکومت نے فوری طور پر 6 ماہ کا ایکشن پلان ترتیب دیا ہے، جس کے تحت سیکڑوں اہلکاروں نے ہزاروں گھروں کا دورہ کر کے خاندانوں کو آگاہی فراہم کی ہے۔ حکومت کی جانب سے ‘فیملی گائیڈ’ اور ‘چلڈرن سیف’ جیسے رہنمائی کے پروگرامز بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں۔

والدین سے اہم اپیل: تقریب کے آخر میں انہوں نے تمام والدین سے اپیل کی کہ اگر وہ اپنے بچوں کے رویے یا عادات میں کسی بھی قسم کی غیر معمولی تبدیلی محسوس کریں، تو فوری طور پر قریبی سوشل سروس مراکز سے رجوع کریں یا آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ماہرینِ نفسیات سے مدد حاصل کریں۔

Read Previous

وائٹ ہاؤس ڈنر پر فائرنگ: گرفتار حملہ آور کے الزامات پر ٹرمپ بھڑک اٹھے، "میں وہ نہیں جو تم کہہ رہے ہو”

Read Next

غزہ امدادی قافلہ ‘صمود فلوٹیلا’: عالمی یکجہتی کی طاقتور سمندری مہم 12ویں روز میں داخل

Leave a Reply