بارسلونا / بحیرہ روم: غزہ کی طویل اور ظالمانہ ناکہ بندی کے خلاف شروع ہونے والی بین الاقوامی یکجہتی مہم “صمود فلوٹیلا” (Samoud Flotilla) اپنے طویل سمندری سفر کے 12ویں دن میں داخل ہو چکی ہے۔
یہ بحری قافلہ محض امدادی سامان لے کر نہیں جا رہا، بلکہ دنیا بھر کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے باضمیر افراد کے اجتماعی ضمیر اور عالمی خاموشی کے خلاف ایک طاقتور احتجاج کا پیغام بھی غزہ کے مظلوموں تک پہنچا رہا ہے۔
مشن کی تیاری اور تاریخی روانگی
اس مشن میں شریک ترک میڈیا (GZT) کی فیلڈ ایڈیٹر ام کلثوم درموش (Ümmügülsüm Durmuş) نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے اس سفر کو جذبات، مشکلات اور امید کا ایک مسلسل امتزاج قرار دیا ہے۔
- تربیتی مراحل: انہوں نے بتایا کہ اس تاریخی سفر کی تیاریاں 6 اپریل کو اسپین کے شہر بارسلونا میں شروع ہوئی تھیں۔ تمام شرکاء کو تفصیلی ٹریننگ، سمولیشنز (Simulations) اور بریفنگ سیشنز سے گزارا گیا۔
- روانگی: 12 اپریل کو درجنوں بحری جہاز، جو فلسطینی پرچموں سے سجے ہوئے تھے، بارسلونا کی بندرگاہ سے روانہ ہوئے۔ شرکاء نے اس جذباتی لمحے کو “تاریخی اتحاد” قرار دیا۔
گیارہ دن گزرنے کے باوجود، ہر گزرتا لمحہ اس مشن کے مقصد اور شرکاء کے عزم کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔
عالمی خاموشی توڑنے کا عزم اور درپیش چیلنجز
شرکاء کے مطابق، غزہ اس وقت صرف زمینی محاصرے کا شکار نہیں، بلکہ اسے عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی کا بوجھ بھی اٹھانا پڑ رہا ہے۔
- مقصد: مختلف زبانوں، ثقافتوں اور پیشوں سے تعلق رکھنے والے یہ افراد صرف ایک مقصد کے تحت متحد ہیں: ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور غزہ کے لوگوں کو یہ باور کرانا کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔
- مشکلات: 12 روز سے جاری اس طویل سفر کے دوران بحری قافلے کو سخت سمندری لہروں، تکنیکی مسائل اور مسلسل تھکن جیسے کٹھن چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ تاہم، شرکاء کا کہنا ہے کہ ہر مشکل لمحہ اس مشن کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
اطالوی کپتان کے قبولِ اسلام کا روح پرور واقعہ
اس سفر کی ایک انتہائی متاثر کن کہانی بحری جہاز کے اطالوی کپتان ٹوماسیو بورٹولاتزی (Tommaso Bortolazzi) کی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ترکیہ میں اپنے قیام کے دوران انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ ان کے مطابق:
"دنیا کی مختلف جیلوں میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک اور ان کے صبر نے میری زندگی کا نظریہ مکمل طور پر بدل دیا۔ گزشتہ رمضان میری زندگی کا پہلا روحانی تجربہ تھا جس میں میں نے روزے رکھے، اور اب یہ سفر میرے اسی روحانی سفر کا ایک حصہ ہے۔”
عوامی حمایت اور ایک ابھرتی ہوئی عالمی تحریک
یہ قافلہ اپنے راستے میں آنے والی مختلف بندرگاہوں پر عوامی سطح پر بھرپور حمایت حاصل کر رہا ہے۔ لوگ نہ صرف ان کا شاندار استقبال کر رہے ہیں، بلکہ امدادی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔
- کئی شرکاء نے اس مشن کے لیے اپنی نوکریاں اور گھریلو ذمہ داریاں چھوڑ دی ہیں۔
- متعدد افراد اپنے خاندانوں سے دور رہ کر انسانیت کی اس خدمت کو ترجیح دے رہے ہیں۔
