ترکی فلسطین کی آزادی کا سب سے بڑا حامی، دوحا انسٹی ٹیوٹ کا عوامی سروے

قطر کے دوحا انسٹی ٹیوٹ کہا ہے کہ فلسطین کے لئے ترکی کی خارجہ پالیسی سب سے زیادہ مثبت ہے۔

دوحا انستی ٹیوٹ نے 13 عرب ممالک، خلیجی ممالک اور ترک عوام سے امریکہ کی فلسطین سے متعلق پالیسی پر سروے کیا۔ ان ممالک کی عوام سے ان کے اپنے ممالک کی بھی فلسطینی پالیسی سے متعلق پوچھا گیا۔

سروے میں 29 فیصد نے فلسطین کے لئے ترکی کی پالیسی کو مثبت قرار دیا۔ 29 فیصد کی رائے ملی جلی رہی تاہم اکثریت نے اسے مثبت قرار دیا۔ 10 فیصد نے منفی تاثرات کا اظہار کیا جبکہ 18 فیصد مکمل طور پر ترکی کی پالیسی سے خوش نہیں تھے۔ 14 فیصد نے کسی بھی قسم کی رائے دینے سے انکار کر دیا۔

سروے میں جب چین کی فلسطین سے متعلق پالیسی پر رائے لی گئی تو 23 فیصد نے اسے مثبت جبکہ 32 فیصد نے ملے جلے رجحان کا اظہار کیا تاہم ان میں سے اکثریت کی رائے مثبت تھی۔ 16 فیصد نے چین کی فلسطین کے لئے پالیسی کو یکسر مسترد کر دیا۔

امریکہ کی فلسطین کے لئے پالیسی پر صرف 11 فیصد رائے مثبت آئی جبکہ 42 فیصد اس بات پر متفق تھے کہ امریکہ کی فلسطین کے لئے پالیسی انتہائی منفی ہے۔ 17 فیصد نے کسی طرح کی رائے دینے سے انکار کیا۔

سب سے حیران کن نتائج ایران کی فلسطین سے متعلق رائے پر آئے۔ صرف 8 فیصد سمجھتے ہیں کہ ایران کی فلسطین کے لئے پالیسی مثبت ہے جبکہ 40 فیصد کا کہنا تھا کہ ایران کی فلسطینی پالیسی منفی ہے۔

Read Previous

روس نے سی ای وی انڈر 17 والی بال یورپی چیمپین شپ میں ترکی کو شکست دے دی

Read Next

وبا کی عالمی صورتحال: کیسز میں بتدریج اضافہ

Leave a Reply