Turkiya-Logo-top

ترکیہ کے ڈاکٹروں کا نیا کارنامہ — بریسٹ کینسر سرجری کا جدید طریقہ متعارف

استنبول: ترکیہ کے ماہر ڈاکٹروں نے خواتین میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ پائے جانے والے مرض ‘بریسٹ کینسر’ کے علاج کے لیے ایک جدید ترین جراحی طریقہ متعارف کرا دیا ہے۔ اس نئے طریقہ کار کے تحت اب ایک ہی آپریشن (سیشن) میں متعدد اہم طبی اور جراحی اقدامات انجام دینا ممکن ہو گیا ہے۔

طبی دنیا میں اس اہم پیش رفت کو شاندار پذیرائی ملی ہے اور اس نئے جراحی طریقے کو اب باقاعدہ طور پر ‘بین الاقوامی طبی لٹریچر’ میں بھی شامل کر لیا گیا ہے۔

ایک ہی آپریشن میں مکمل اور جامع علاج

استنبول کی ہیلتھ سائنسز یونیورسٹی کے حکام کے مطابق، یہ طریقہ کار بریسٹ کینسر کے علاج میں ایک انتہائی جامع اور مؤثر حکمتِ عملی فراہم کرتا ہے۔ جامعہ کے وائس ریکٹر اور گلہانے میڈیکل فیکلٹی کے ڈین نے اس جدید طریقے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اب منتخب مریضوں کے لیے بار بار آپریشن کی ضرورت نہیں رہے گی:

  • ٹیومر کا خاتمہ اور بحالی: ایک ہی آپریشن میں کینسر زدہ ٹیومر کو نکالنے کے ساتھ ساتھ متاثرہ حصے کی فوری بحالی کی سرجری بھی کر دی جاتی ہے۔
  • حفاظتی سرجری: ضرورت پڑنے پر لیپروسکوپک (Laparoscopic) طریقے سے بیضہ دانیاں (Ovaries) اور بعض مخصوص کیسز میں رحم بھی نکالا جا سکتا ہے تاکہ مستقبل میں کینسر کے دوبارہ حملے کے خطرے کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔

یہ تمام نازک مراحل مختلف شعبوں کے ماہر ڈاکٹروں کی ایک مشترکہ ٹیم ایک ہی جراحی سیشن میں سرانجام دیتی ہے۔

مریضوں کے لیے شاندار فوائد

ماہرین کے مطابق، سرجری کا یہ مکمل اور پیچیدہ عمل صرف دو گھنٹوں میں پایہ تکمیل تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کے نمایاں فوائد درج ذیل ہیں:

  • مریض کو بار بار آپریشن کی زحمت اور تکالیف سے نجات مل جاتی ہے۔
  • سرجری کے بعد بحالی (Recovery) کا عمل انتہائی تیز ہو جاتا ہے۔
  • مریض کے جسمانی اور نفسیاتی صدمے میں نمایاں کمی آتی ہے اور بہتر طبی نتائج حاصل ہوتے ہیں۔

جینیاتی ٹیسٹ اور انفرادی علاج کی اہمیت

طبی ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کینسر کے ہر مریض کا علاج ایک جیسا نہیں ہو سکتا۔ ہر علاج مریض کی انفرادی طبی حالت، خطرے کی سطح اور جینیاتی عوامل کو مدنظر رکھ کر طے کیا جاتا ہے۔

  • موروثی خطرہ: تحقیق کے مطابق، بریسٹ کینسر کے تقریباً 5 سے 10 فیصد کیسز موروثی (خاندانی) ہوتے ہیں۔
  • اس لیے خاص طور پر 50 سال سے کم عمر خواتین اور وہ مریض جن کے خاندان میں کینسر کی ہسٹری موجود ہو، ان کے لیے جینیاتی ٹیسٹ (Genetic Testing) کروانا انتہائی ناگزیر ہو جاتا ہے۔

ابتدائی تشخیص ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے

اس جدید طریقہ کار سے مستفید ہونے والی ایک ترک مریضہ نے اپنے تجربے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ بروقت تشخیص ہونے کی وجہ سے انہیں ایک ہی آپریشن میں مکمل علاج فراہم کر دیا گیا، اور اب وہ بالکل معمول کے مطابق ایک صحت مند زندگی گزار رہی ہیں۔

طبی ماہرین نے خواتین کو مشورہ دیا ہے کہ بریسٹ کینسر کے خلاف جنگ میں "ابتدائی تشخیص” ہی سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔ خواتین کو چاہیے کہ وہ باقاعدگی سے اپنا ذاتی معائنہ کریں اور کلینیکل چیک اپ کرواتی رہیں، تاکہ اس موذی بیماری سے بروقت بچاؤ ممکن ہو سکے۔

Read Previous

ایران امریکہ مذاکرات میں پاکستان ہی باضابطہ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ

Read Next

تقسیم ختم ہونے لگی؟ لیبیا کی مشرقی و مغربی افواج پہلی بار ایک ساتھ فوجی مشق میں شریک

Leave a Reply