انقرہ / طرابلس: برسوں کی اندرونی کشیدگی اور تقسیم کے بعد، لیبیا کے استحکام کے حوالے سے ایک انتہائی مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ترکیہ میں جاری بین الاقوامی مشترکہ فوجی مشق ‘ای ایف ای ایس 2026’ (EFES 2026) میں لیبیا کی مشرقی اور مغربی افواج تاریخ میں پہلی بار ایک ہی پلیٹ فارم پر شریک ہو گئی ہیں۔
اس غیر معمولی اور تاریخی پیش رفت کو علاقائی استحکام اور لیبیا کے دوبارہ متحد ہونے کی جانب ایک اہم ترین قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
‘متحدہ لیبیا’ کی جانب اہم قدم اور دستوں کی تفصیلات
ترک وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، اس وسیع پیمانے کی مشق میں لیبیا کے دونوں حریف دھڑوں کی نمائندگی موجود ہے:
- مشرقی لیبیا: 331 فوجی اہلکار مشق میں حصہ لے رہے ہیں۔
- مغربی لیبیا: 177 اہلکار اس مشق کا حصہ بنے ہیں۔
ترک حکام کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں کی یہ مشترکہ شرکت “متحدہ لیبیا” کے تصور کو عملی طور پر تقویت دینے اور ملک میں قومی یکجہتی پیدا کرنے کی جانب ایک انتہائی مثبت اور خوش آئند قدم ہے۔
بحری جنگی جہاز ‘ایل این ایس شفق’ کی شرکت
اس مشق کی ایک اور اہم خصوصیت لیبیا کے بحری جنگی جہاز “ایل این ایس شفق” (LNS Shafaq) کی شرکت ہے۔ دفاعی مبصرین کے مطابق، اس جنگی جہاز کی شرکت دونوں لیبیائی دھڑوں کے درمیان بڑھتے ہوئے عملی تعاون اور ہم آہنگی کی ایک واضح اور شاندار مثال ہے۔
مشق کے مقاصد اور اہم مراحل
یہ وسیع پیمانے کی فوجی مشق ترک افواج کی منصوبہ بندی، باہمی تعاون، اور مشترکہ کارروائیوں کی صلاحیت کو ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ دوست اور اتحادی ممالک کے دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے منعقد کی جا رہی ہے۔ مشق کو درج ذیل مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے:
- ابتدائی مرحلہ: 11 سے 17 اپریل تک جاری رہا، جس میں کمانڈ پوسٹ کی سرگرمیاں اور استنبول و ازمیر میں مبصرین کے اجلاس شامل تھے۔
- عملی مرحلہ: مشق کا باقاعدہ فیلڈ اور عملی مرحلہ 20 اپریل سے 21 مئی تک ازمیر میں جاری رہے گا۔
ترکیہ کا علاقائی سیکیورٹی وژن اور دفاعی سفارت کاری
وزارتِ دفاع کے بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ فوجی مشق ترکیہ کے علاقائی سیکیورٹی وژن اور بین الاقوامی فوجی تعاون کی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ مشق جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگی اور نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی نمایاں کر رہی ہے۔
دفاعی ماہرین کا تجزیہ: عالمی دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ ‘ای ایف ای ایس 2026’ مشق میں لیبیا کی یہ بھرپور شرکت دونوں ممالک (ترکیہ اور لیبیا) کے تاریخی تعلقات اور بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعاون کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ پیش رفت ترکیہ کی اس سفارتی اور عسکری صلاحیت کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ وہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر عالمی چیلنجز کا بخوبی مقابلہ کر سکتا ہے اور بین الاقوامی امن و سلامتی میں اپنا مؤثر اور کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
