ارطغرل کے مزار پر حاضری

تحریر۔ عارف الحق عارف

ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی فلم اور موویز دیکھنے والوں کی یہ بات ہمیں درست لگتی ہے کہ ترک تاریخی ڈرامہ سیریز ڈیریلش ارطغرل کی اس سیریز، اس کی تاریخی کہانی اور ارطغرل کا کردار ادا کرنے والے ترک اداکار انگین آلتان کو نیٹ فلیکس پر نشر ہونے کے بعد پوری دنیا میں جو شہرت ملی ہے، وہ کسی اور اداکار کو شاید ہی ملی ہو۔

ہم نے سب سے پہلے اس ڈرامہ سیریز کو اسی نیٹ فلیکس پر پورا دیکھا تھا۔پھر جب پاکستان ٹیلی ویژن نے اس کو اردو میں پیش کیا تو اسے دوبارہ دیکھا۔اس اولین کوشش کی کامیابی دیکھ کر ترک ٹی وی چینلز نے ایک کے بعد دوسری تاریخی ڈرامہ سیریز کا سلسلہ شروع کر دیا۔جو اب تک جاری ہے اور اب پاکستان کے نامورماہر نفسیات اور سرمایہ کار ڈاکٹر کاشف انصاری بھی اس میدان میں کود چکے ہیں اور فاتح القدس صلاح الدین ایوبی پر ترک اور پاکستانی اداکاروں کے اشتراک سے ڈرامہ سیریز پروڈیوس کررہے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ آج کل اسلام کا پیغام امن اور اس کی دعوت عام کرنے کا یہ ایک موثر ذریعہ ہے۔ ارطغرل سیریز دیکھ کر ہمیں ان تاریخی سیریز سے اس قدر لگاؤ ہوگیا کہ ان میں سے ہر ڈرامہ ہم نے مکمل طور پر دیکھا ہے۔ان میں کرولش عثمان، بار باروسہ، فلنٹا مصطفی، پائے تحت عبدالحمید ثانی، محمت کوتلو امارے ظفر خاص طور پر شامل ہیں۔

ان ڈرامہ سیریز کو دیکھنے کے بعد ہمارے دل میں ترکی اور اس کے عوام کے ساتھ محبت میں بڑا اضافہ ہوا اور یہ خواہش رہی کہ ترکی میں ان ڈرامہ سیریز کی پروڈکشن کی جگہوں اور ان تمام مقامات کو دیکھا جائے اور ان اداکاروں سے ملا جائے جنہوں نے ان ڈرامہ سیریز میں اپنی شاندار اداکاری سے ان انہیں دنیا بھر میں مقبول بنایا ہے اور قرون اولی کے مسلمانوں کے حالات،ان کی جدوجہد، ان کی صلیبیوں اور منگولوں کے ساتھ خون ریز لڑائیوں کے احوال اور ان کی سازشوں اور اپنوں کی غداریوں کا پردہ چاک کیا ہے۔ اور ان کے حقیقی کرداروں کے مقبروں پر حاضری دی جائے۔

یہ موقع ہمیں ترکی کے حالیہ دورہ کے دوران مل گیا۔ہمارا ترکی کے مختلف شہروں کا سفر جاری ہے۔اب تک ہم اس کے چھ تاریخی شہروں کا دورہ کرچکے ہیں جن میں استنبول، برصہ، سوگوت،قونیہ، قیصری اور ادنا شامل ہیں اور ابھی تھوڑی دیر بعد ایک اور شہر غازی انتیپ جارہے ہیں۔اس کے بعد دو شہروں کا دورہ باقی ہے۔ برصہ میں قیام کے دوران ہم سلطنت عثمانیہ کے پہلے سلطان عثمان غازی،ان کے بیٹے اور دوسرے سلطان اورحان خان اور ان کے بیٹے اور تیسرے سلطان مراد اوّل کے مقبروں اور تاریخی مقامات کی زیارت کرچکے ہیں۔ہم نے اب تک صرف عثمان غازی کے مقبرے پر حاضری کی ویڈیو اور آڈیو فیس بک پر شیئر کی ہے اور اب ہمارے سب سے پسندیدہ کردار اور حقیقی معنوں میں سلطنت عثمانیہ کی بنیادیں رکھنے والے بڑے لیڈر ارطغرل بے کے مقبرے پر حاضری کا احوال اور احساسات پیش کرتے ہیں۔

ویسے تو جب سے ہم ترکی آئے ہیں۔ ایک عجیب سی روحانی کیفیت طاری ہے کہ ہم اس ملک میں ہیں جو ارطغرل جیسے بہادر اور دانش و حکمت کی خوبیوں کا مالک تھا اور جس نے اصل میں صلیبیوں، منگولوں اور ہر قسم کے ڈاکوؤں کا دلیری سے مقابلہ کیا اور اپنی بہادری اور اسلام سے محبت کی وجہ سے سوگوت کا علاقہ حاصل کیا۔جو عثمان غازی کا ملک ہے، جو سلجوکی سلطان علاؤالدین کیقباد کا ملک ہے، جو علامہ اقبال کے مرشد مولانا جلال الدین رومی کا ملک ہے، جو ان کے استادوں مولانا برہان الدین اور مولانا شمس تبریز اور سعید نورسی اور مولانا محمود آفندی کا ملک ہے۔ جن کا روحانی فیض نا صرف ترکی بلکہ پورے عالم اسلام اور دنیا بھر میں اب بھی جاری ہے۔

ان احساسات کے ساتھ ہم نے برصہ سے سوگوت جانے کا ارادہ کیا اور ہوٹل سے ناشتہ کرنے کے بعد باہر آئے تو موسم ابر آلود تھا۔آسمان پر گہرے سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے اور ایسا محسوس ہورہا تھا کہ بس ابھی چھماچھم بارش برسنا شروع ہو جائے گی۔ہمیں ٹرام سے بس کے اڈے پر جانا تھا۔جو وہاں سے ایک سے دو کلو میٹر دور تھا۔ہمارے برخوردار احمد جان جاوید نے جلدی جلدی ایک ٹیکسی کو کال کیا وہ چند منٹ میں آگئی اور ہم روانہ ہوگئے۔بارش برسنا شروع ہوگئی تو احمد نے ڈرائیور سے ترکی زبان میں بات چیت شروع کردی جو ہماری سمجھ میں نہ آنا تھی اور نا آئی۔دونوں اس طرح بات چیت کررہے تھے جیسے وہ ایک دوسرے کو عرصے سے جانتے ہوں۔یہ احمد کا کمال ہے کہ اس کو ترکی میں بات کرتے دیکھ کر کوئی بھی اسے غیر ترکی نہیں کہ سکتا۔جب تک وہ ہم سے اردو میں بات نہ کرلے۔ وہ ترکوں کی عام بولی بولتا ہے۔ایسا محسوس ہورہا تھا کہ وہ دوستی کر کے اب کوئی ڈیل بنا رہا ہے۔اچانک اس نے ہمیں بتایا کہ بارش بہت شدید ہو رہی ہے۔ اس کے تھمنے کا دور دور کوئی امکان نہیں ہے۔میں ٹیکسی ڈرائیور سے سوگوت جانے اور زیارت کی جگہوں پر لے جانے کےلئے بات کررہا تھا۔راستہ ڈیڑھ دو گھنٹے کا ہے بارش میں کہاں ٹھوکریں کھائیں گے ؟ ہم نے کہا اس سے اچھی کیا بات ہوگی اور مناسب کرایہ طے کرکے ہم ٹیکسی میں روانہ ہوئے۔راستے بھر شدید بارش جاری رہی۔اس کا برصہ سے فاصلہ کوئی ڈیڑھ سو کلو میٹر تھا۔بس کے ذریعہ جاتے تو بارش میں سفر دشوار ہوجاتا لیکن اللہ کا شکر ہے کہ احمد کے فیصلے نے اس مشکل صوت حال سے بچا لیا۔جوں جوں سوگوت قریب آر ہاتھا دل کی دھڑکنیں تیز ہورہی تھیں۔ڈرامہ سیریز کا ایک ایک منظر ذہن میں گھوم گیا۔خاص طور پر وہ منظر تو کبھی نہ بھولنے والا ہے جب قلعہ کے تکفور آرس نے اپنے ماہر سپایئوں کے ساتھ ڈاکؤوں کے بھیس میں ارطغرل کے قافلے پر شب خون مارا تھا اورایک دو کے سوا بظاہر ارطغرل سمیت سب کو قتل کر دیا تھا۔ارطغرل کو ایک تاجر وہاں سے شدید زخمی حالت میں اٹھا کر لے گیاتھا اور اس کی انگوٹھی ایک جلی ہوئی لاش کے ہاتھ کی انگلی میں پہنا دی تھی۔کائی قبیلہ اور خود آرس نے یہ سمجھ لیا کہ ارظغرل شہید ہو گیا ہے لیکن تاجر نے اس زخمی ارطغرل کا ایک غار میں علاج کیا اور اچھے دام ملنے کے لالچ میں بیچنے کےلئے دوسرے درجنوں مردوعورت غلاموں کے ساتھ دوسری جگہ بھیجنا چاہا۔غلاموں کے ساتھ ظالمانہ سلوک سے ارطغرل کو بڑا صدمہ ہوا اور اس نے ان کی اس غلامی سے نجات دلانے کی منصوبہ بندی کی اور ان کو آزاد کرا لیا اور خود بھی آزاد ہو کر واپس قبیلہ پہچا تو حلیمہ سلطان سمیت کسی نے یقین نہیں کیا۔کیوں کہ قبیلے کے لوگ تو اسے انگوٹھی سے پہچان کر شہید سمجھ چکے تھے اور اسکا جنازہ پڑھ کر دفن کر چکے تھے۔ادھر قبیلے میں چھوٹے بھائی دندار کو مکار اور شاطر سعادت الدین کو پیک کے ورغلانے پر ہنلی بازار آریس کو اپنی شراکت میں بہادر کے نام پر فروخت کرنے کا سودا طے کرلیتاہے۔ جب ارطغرل کو پوچھنے پر کہ دندار کہاں ہے ، بتایا جاتا ہے کہ دندار ہنلی بازار کو فروخت کرنے بازار گیا ہوا ہے تو ارطغرل اپنے چند الپ کے ساتھ بازار جاتا ہے۔ کو پیک، آریس اور بہادر فروخت کی دستاویز تیار کر لیتے ہیں اور اور اس پر دستخط اور مہر بھی چسپاں کر چکتے ہیں کہ ارطغرل بڑی شان سے داخل ہوتا ہے اور اپنی موجودگی سے سب کو چونکا دیتا ہے اور فروخت کی دستاویز کو پھاڑ دیتا ہے اور سینے پر مکا مارتے ہوئے کہتا ہے۔ “ یہ بازار میرا ہے۔ میں اس کا مالک ہوں، میں نے اسے فتح کیا ہے۔ میں اسے نہیں بیچ رہا۔” اور دستاویز کے پرزے بکھیر دیتا ہے اس طرح وہ بازار کو بکنے سے بچا لیتا ہے۔

ہم مقبرے میں دوسرے سیاحوں کے ساتھ داخل ہوئے تو اسے دیکھ کر اس کی بہادری، جرت، ایمانداری، دوراندیشی، صلیبیوں منگولوں اور بدمعاشوں اور ڈاکوؤں کو خاک کی دھول چٹانے والا اور علاؤالدین کیقباد سے اپنی بہادری اور حق گوئی کے انعام کے طور سوگوت حاصل کرنے والے ارطغرل کی عظمت سامنے آگئی۔مقبرے پر ۱۴ گارڈز ۲۴ گھنٹے کی ڈیوٹی انجام دیتے ہیں اور تین تین گھنٹے بعد گارڈز کی تبدیلی کی پریڈ ہوتی ہے۔ اتفاق سے جب ہم پہنچے تو یہ تقریب ہورہی تھی جس کو ہم نے ریکارڈ کرلیا۔مزار پر فاتحہ پڑھی اور ان کی عظمت کو خراج عقیدت پیش کرنے کےلئے سلامی دی۔یہ منظر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ذہن پر نقش ہوگیا۔ہم نے باہر ان کے ساتھی ایلپس کی قبروں پر بھی حاضری دی۔نور گل یعنی ترگت کی قبر بھی یہاں موجود ہے لیکن یہ اصلی نہیں ہے اصل قبر انا گول میں ہے جس کو اس نے فتح کیا تھا۔دو آن اور غازی عبدالرحمن کی قبر بھی یہیں ہے۔اس کے علاوہ کنور، سمسہ ،سلتک اور آئ دودو کی قبریں بھی اسی جگہ ہیں۔ بامسی کا کردار ڈرامہ کو دلچسپ بنانے کےلئے تھا یہ اصل کردار نہیں ہے۔

Read Previous

ترکیہ نے نیٹو میں ہمیشہ اپنی زمہ داریاں مکمل کی ہیں اور ان سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا،وزیر دفاع

Read Next

ترکیہ روسی اناج کی ترسیل کے لیے پرعزم ہے،صدر ایردوان

Leave a Reply