fbpx
ozIstanbul

ترکی: خشک سالی کے باعث ہزاروں فلیمنگوز ہلاک

گزشتہ 15 روز کے دوران خشک سالی کے باعث ترکی کی تُز جھیل پر ہزاروں فلیمنگو (لال سر) کے بچے ہلاک ہو گئے۔

ماہر ماحولیات کا کہنا ہے کہ یہ موسمیاتی تبدیلی اور زرعی آبپاشی کے طریقہ کار کا نتیجہ ہے۔

ڈرون کے ذریعے ترکی کے وسطی صوبہ قونیہ کی نمکین تُزجھیل کی بنائی گئی فوٹیج میں خشک مٹی پر پڑے فلیمنگوز کے مرے ہوئے بچے دیکھےگئے، تز جھیل کو فلیمنگوز کی بستی مانا جاتا ہے جہاں ہر سال تقریباََ 10 ہزار فلیمنگوز پیدا ہوتے ہیں۔

ترکی کے وزیر زراعت اور جنگلات باقر پاکدی میرلی نے کہا کہ سمجھا گیا تھا کہ ایک ہزار پرندے ہلاک ہوئے ہیں، لیکن انہوں نے محکمہ زراعت کے معاملے میں قصوروار ہونے سے انکار کردیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے غور کیا ہے کہ پانی کی کمی اور پانی میں کثافت کی شرح بڑھنے کے باعث فلیمنگوز اڑنے کے قابل نہیں رہے اور ہلاک ہوگئے۔

باقر پاکدی میرلی نے کہا کہ ‘میں اس بات پر زور دینا چاہوں گا کہ اس حادثے سے علاقائی کنوؤں یا زرعی آبپاشی کا بلواسطہ یا بلاواسطہ کوئی تعلق نہیں ہے’۔

انہوں نے وضاحت کیے بغیر بتایا کہ ضروری اقدامات اٹھائے جاچکے ہیں۔

سال 2000 میں تز جھیل کو خصوصی طور پر تحفظ شدہ قرار دیا گیا تھا جس کا اہم مقصد حیاتیاتی تنوع اور قدرتی اور ثقافتی وسائل کو بڑھانا ہے۔

ترک ماحولیاتی فاؤنڈیشن ٹیما کی رپورٹ کے مطابق ماہرین ماحولیات نے الزام عائد کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ کاشتکاری کے طریقے بھی خشک سالی کی وجہ ہے جس کے باعث دیکھا گیا کہ گزشتہ سال کے مقابلے علاقے میں پانی کی طلب میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ٹیما کے مطابق سال 2020 میں وسطی صوبہ قونیہ میں پانی کا ذخیرہ 4 کروڑ 50 لاکھ کیوبک میٹرز تھا، جبکہ پانی کی کھپت 6 کروڑ 50 لاکھ کیوبک میٹرز رہی تھی۔

پچھلا پڑھیں

سعودی حکومت کی جانب سے حج ہدایات فراہم کرنے کے لئے 135 امام مقرر

اگلا پڑھیں

افغان جنگ میں مغربی قلمکاروں کا کردار

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے