fbpx
ozIstanbul

افغان جنگ میں مغربی قلمکاروں کا کردار

پیچ افغانستان کے صوبہ کنڑ کا ایک ضلع ہے۔ یہ ضلع نوکدار اور خطرناک ڈھلوانوں پر مشتمل پہاڑی سلسلہ پر مشتمل ہے۔ اس ضلع کے صدر مقام اسد آباد سے 32کلومیٹر مغرب کی جانب وادی کونگال ہے۔ 2005میں امریکی انٹیلی جنس کو اطلاع ملی تھی کہ افغانستان میں شکست کے بعد فرار ہونے والے طالبان کا ایک گروہ محمد اسماعیل نامی طالبان کمانڈرکی قیادت میں ان پہاڑیوں میں روپوش ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکہ افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کا اعلان کرچکا تھا اور مفرور طالبان کو تلاش کرکے ختم کرنے کے مشن پر تھا۔ اس اطلاع کے بعد افغانستان میں امریکی افواج کی ہائی کمان کی جانب سے اپنی سب سے زیادہ قابل اعتماد فورس نیوی سیلز کو یہ مشن سونپا گیا۔

یہ فورس سمندر، صحرائوں، جنگل، پہاڑوں اور شہروں میں دہشت گردوں کے خلاف چھوٹے آپریشنز کرنے کے حوالے سے دنیا بھر میں مشہور تھی اور کبھی ناکام نہیں ہوئی تھی۔یہی وجہ تھی کہ مفرور طالبان کے خلاف پہلے بڑے آپریشن کے لیے بھی اسی فورس کا انتخاب کیا گیا تھا۔27جون2005کو شروع کیا گیا یہ آپریشن جولائی کے وسط تک جاری رہا۔ یہ افغانستان میں داخلے کے بعد امریکی فوج کی طالبان جنگجوئوں کے خلاف پہلی بڑی زمینی کارروائی تھی جس میں کسی اتحادی فوج کے اہلکار موجود نہیں تھے ۔ اس کارروائی کو ’’Operation RedWing‘‘کا نام دیا گیا تھا۔ کارروائی کا آغاز چار نیوی سیلز کو’’ کونگال وادی‘‘ میں اتار کر کیا گیا ۔

آپریشن شروع ہوئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ یہ چاروں امریکی اہلکار طالبان کے گھیرے میں آگئے اور تین اہلکار موقع پر ہی مارے گئے جبکہ ایک اہلکار مارکس لوٹرل شدید زخمی ہوگیا۔ جھڑپ شروع ہوتے ہی ان اہلکاروں نے بگرام بیس سے مدد طلب کرلی تھی تاہم امریکی نیوی سیلز کو کمک دیر سے پہنچی۔ اس ٹیم کی مدد کے لیے دو ہیلی کاپٹرز میں نیوی سیلز کے مزید اہلکاروں کو بھیجا گیا ۔

جیسے ہی امریکی ہیلی کاپٹر اس مقام پر پہنچے جہاں جھڑپ ہوئی تھی اور ایک امریکی زخمی اہلکار مارکس لوٹرل موجود تھا، اچانک طالبان جنگجوئوں کی جانب سے ایک امریکی ہیلی کاپٹر گرادیا گیاجس میں سوار نیوی سیلز کے 16اہلکار مارے گئے۔یہ منظر دیکھتے ہی دوسرا ہیلی کاپٹر آپریشن ادھورا چھوڑ کر بگرام ائیربیس واپس چلا گیا۔امریکہ کی تاریخ میں اسے سیاہ دن سے تعبیر کیا گیا اور امریکی نیوی سیلز میں سوگ منایا گیا۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والی اس اسپیشل فورس کو دنیا میں سینکڑوں مشن سرانجام دینے کے دوران کبھی کسی ایک کارروائی میں اس قدر جانی نقصان نہ اٹھانا پڑا تھا۔زخمی امریکی اہلکار مارکس لوٹرل کو قریبی گائوں سالار بن کے ایک رہائشی گلاب خان نے اٹھایا اور اپنا مہمان بنا کر اس کی تیمارداری کرتا رہا۔ جب مارکس کو ہوش آیا تو اس نے گلاب خان کو ایک خط دے کر بگرام ائیربیس بھیجا جس کے پانچ روز بعد امریکی فوج نے اپنے زخمی اہلکار کو بحفاظت نکالا۔

یہ واقعہ امریکہ کے لیے اس قدر اہمیت کا حامل رہا کہ اس پر امریکہ کے مشہور ناول نگار پیٹرک رابنسن نے ایک کتاب ’’Lone Survivor‘‘ لکھی جس کا بڑا حصہ امریکی نیوی سیلز کے واحد بچ جانے والے اہلکار مارکس لوٹرل کی یاداشتوں پر مشتمل تھا۔ امریکی حلقوں میں اس نقصان کو اس قدر اہمیت دی گئی کہ امریکی فلم ڈائریکٹر پیٹربرگ نے 40ملین ڈالر سے ’’Lone Survivor‘‘ نام سے ہی ایک بائیوگرافک وار فلم بنائی۔ یہ تمام کوششیں نیوی سیلز کے مورال کو بلند کرنے اور عوام میں اس کی ساکھ کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے تھیں۔اس کتاب اور فلم میں مہمان نوازی اور مہمان کی حفاظت کے لیے اپنا سب کچھ دائو پر لگادینے کی افغان روایات کی تعریف بھی کی گئی۔

اسی طرح آپریشن ریڈ ونگ طرز کا ایک اور آپریشن میڈوسا 2006میں ہوا جسے نیٹو کی تاریخ کا سب سے بڑا آپریشن قرار دیا جاتا ہے۔طالبان جنگجو جب پیش قدمی کرتے ہوئے قندھار کے قریب پہنچ گئے تو صوبے میں تعینات نیٹو کی شمالی کمان کے سربراہ کینیڈین فوج کے میجر جنرل ڈیوڈ فریزیر کا ٹکرائو ان جنگجوئوں سے ہوا۔ اسے نیٹو افواج اور طالبان جنگجوئوں کی سب سے خون ریز لڑائی قرار دیا جاتا ہے ۔

اس لڑائی میں ایساف کے تحت کینیڈا، امریکہ ، برطانیہ ، ہالینڈ ، ڈنمارک اور افغان فوج کے اہلکار حصہ لے رہے تھے۔ اس کارروائی میں بھی طالبان پسپا ہوگئے تاہم اتحادی افواج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس لڑائی کا احوال افغانستان میں نیٹو کی شمالی کمان کے سربراہ میجر جنرل ڈیوڈ کی یاداشتوں پر مشمتل کتاب ’’Operation Medusa:The furious battle that saved Afghanistan from Taliban’’ برائن ہننگٹن نے لکھی جبکہ نیٹو کی اس خون ریز پر ہی دوسری کتاب ’’Lions of Kandhar‘‘امریکی صحافی کیوین میرر نے لکھی۔

پھر ایک اور آپریشن جو بہت مشہور ہوا ، افغانستان کے صوبے نورستان میں امریکی چیک پوسٹ پر افغان طالبان کے حملے میں 14امریکی اور 8افغان فوجی مارے گئے تھے ۔چیک پوسٹ کا دفاع کرنیو الے ایک امریکی اہلکار کو فوجی اعزاز دیا گیا تھا ۔ اس کا احوال ’’Red Platoon: A True Story of American Valor’’ میں لکھا گیا ہے۔ ایک اور فوجی آپریشن جو مشرقی افغانستان کی برف پوش پہاڑیوں کی 10449فٹ بلند چوٹیوں پر ہوا ۔ ایک پہاڑی چوٹی پر قبضے کے لیے لڑی گئی اس جنگ میں ایک اہلکار ہیرو قرار پایا اور اس ’’معرکہ‘‘ کے احوال Alone At Dawnمیں درج کیا گیا۔ Into the Fireطالبان جنگجوئوں کے اچانک حملے میں غیرملکی افواج کی کہانی بتاتی ہے تو One Million Stepsایسی یونٹ کی داستان ہے جس نے افغان جنگ کے دوران سب سے زیادہ افراد کھوئے مگر لکھاری کے مطابق ان کے حوصلے پست نہ ہوئے۔ Outlaw Platoon بھی غیرملکی لکھاریوں کا اپنے اہلکاروں کو خراج تحسین ہے ۔
اگرچہ امریکہ و اتحادیوں نے افغانستان میں 32بڑے اور سینکڑوں چھوٹے آپریشنز کیے اور یقینی طور پر ان آپریشنز پر مزید کتابیں بھی موجود ہونگی۔ مگر یہ وہ چند کتب ہیں جوافغان جنگ کے حوالے سے میری نظر سے گزریں۔ انھیں پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ افغانستان جنگ میں شامل رہنے والے نیٹو ممالک کے عوام کی آنکھوں میں ان لکھاریوں نے کس طرح دھول جھونکی اور کیسے ناکامیوں کو بڑھا چڑھا کر کامیابیاں بنا کر پیش کیا گیا۔

حقائق کو اس قدر مسخ کیا گیا ہے کہ طویل عرصے تک افغانستان پر حملہ کرنے والوں کی کامیابی کا فسوں دنیا پر قائم رہا۔مگر آج امریکہ کا اپنا اتحادیوں کے ساتھ رات کی تاریکی میں بگرام ائیر بیس سے نکل جانا ثابت کرتے ہیں کہ ان کتابوں میں محض لفاظی کی گئی تھی۔اگر ان میں زرا بھی حقیقت ہوتی تو افغانستان کی صورتحال یکسر مختلف ہوتی ۔

امریکہ جو افغانستان میں امن قائم کرنے، جمہوری حکومت لانے اور دہشت گردوں کے خاتمے کے اہداف لے کر اپنے اتحادیوں کے ساتھ حملہ آور ہوا تھااب اس جنگ میں 2.26ٹریلین ڈالر جھونک دینے کے باوجود کچھ حاصل نہ کرسکا ۔ اب جبکہ اس کی واپسی آخری مراحل میں ہے تو صورتحال یہ ہے کہ ماضی میں دہشت گرد قرار دیے گئے طالبان جنگجو 85فیصد ملک پر قبضے کا دعویٰ کررہے ہیں اور امریکہ نے ان دہشت گردوں سے ہی محفوظ راستہ مانگ کر افغانستان چھوڑا ہے۔ افغانستان کا انفرااسٹریکچر تباہ ہوچکا ہے۔ اڑھائی لاکھ افراد اس جنگ میں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

اس ساری تباہی کے ذمہ دار صرف امریکہ و اتحادی ممالک کی افواج ہی نہیں بلکہ وہ قلمکار بھی ہیں جو حقائق بتانے کے بجائے شکست کو فتح ثابت کرتے رہے ۔جنگ کی تباہ کاریوں سے ہیروازم کشید کرکے عوام کو گمراہ اور جنگی جنونیوں کی تسکین کا سامان کرنے والے بھی افغانستان کی بربادی اور قتل عام میں برابر کے شریک ہیں۔

پچھلا پڑھیں

ترکی: خشک سالی کے باعث ہزاروں فلیمنگوز ہلاک

اگلا پڑھیں

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل سے خطاب

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے