fbpx
ozIstanbul

افغانستان میں تزویراتی گہرائی جیسی اب کوئی پالیسی نہیں، نہ ہی کوئی پسندیدہ ہے، پاکستانی وزیر اعظم

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے ہماری حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ افغان عوام جسے منتخب کریں گے ہمارے اس کے ساتھ بہترین تعلقات ہوں گے، ہمارا کوئی پسندیدہ نہیں ہے اور نہ ہی نوے کی دہائی کی طرح اب افغانستان میں تزویراتی گہرائی اسٹریٹجک ڈیپتھ جیسی کوئی پالیسی ہے۔

اسلام آباد میں پاک افغان یوتھ فورم کے تحت وزیراعظم کی افغانستان کے میڈیا نمائندگان سے ملاقات اور سوال و جواب کا سیشن منعقد کیا گیا۔

ایک افغان صحافی کی جانب سے افغانستان، بھارت اور پاکستان پر مشتمل سہ فریقی مذاکرات سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 5 اگست کو بھارت نے یکطرفہ طور پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو مسترد کرتے ہوئے کشمیریوں سے ان کی ریاست کا حق چھین لیا۔

انہوں نے کہا کہ 1948 میں اقوامِ متحدہ کی قرارداد میں کشمیریوں کے استصوابِ رائے کا حق رکھا گیا تھا جو انہیں نہیں دیا گیا اس لیے کشمیر کے عوام نے اس حق کی جدوجہد کی جس کی پاکستان نے حمایت کی تاہم 5 اگست 2019 کو بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے بعد پاکستان نے بھارت کے ساتھ تمام سفارتی تعلقات منقطع کردیے اور جب تک بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال نہیں کردیتی، ہم بھارت، افغانستان کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات نہیں کرسکتے۔
انہوں نے کہا کہ میں افغانستان گیا ہوں، افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ میرے اچھے تعلقات ہیں اور ہمارے باہمی تعلقات بھی اچھے ہیں لیکن افغان رہنماؤں کے حالیہ بیانات میں افغانستان کی صورتحال کا الزام پاکستان پر لگایا گیا جو بڑی بدقسمتی کی بات ہے۔


ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ طالبان کو پہلے امریکا کے ساتھ اور پھر افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان سے زیادہ کسی ملک نے دباؤ نہیں ڈالا، ہم نے اپنی بھرپور کوشش کی اور کسی ملک نے اتنی محنت نہیں کی جتنی ہم نے کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس بات کی تصدیق امریکا کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے بھی کی۔

افغانستان میں کھیل کی سرگرمیوں کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ 3 سال کے دوران میرے پاس کھیلوں کے لیے وقت نہیں تھا کیوں کہ دیگر مسائل تھے لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ کرکٹ کی تاریخ میں جتنے کم وقت میں افغانستان میں بہتری آئی وہ کسی اور ملک کی ٹیم میں نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان جس مقام پر پہنچ چکا ہے وہاں تک پہنچنے کے لیے دیگر ممالک کو 70 برس لگے ہیں، افغانوں نے بنیادی طور پر مہاجر کیمپوں میں کرکٹ سیکھی جو قابل ستائش ہے۔

افغانستان کے بارے میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور سول حکومت میں کتنی ہم آہنگی پائی جاتی ہے کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں ایک احساس یہ پایا جاتا ہے کہ پاکستان کو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کنٹرول کرتی ہے اور بدقسمتی سے اسے بھارت نے جان بوجھ کر پروان چڑھایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میری حکومت کی خارجہ پالیسی گزشتہ 25 برسوں سے میری پارٹی کے منشور کا حصہ ہے اور میرا ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ افغانستان کا کوئی عسکری حل نہیں ہے، ہمیں ہمیشہ کہا گیا کہ بالآخر افغانستان کا مسئلہ سیاسی تصفیے کے ذریعے حل ہوگا، میری حکومت کا 3 سال سے یہی مؤقف ہے جو میں 15 برسوں سے کہہ رہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو پاک فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے اور میں نے ہمیشہ بھارت کے ساتھ امن چاہا ہے، فوج نے بھارت کے ساتھ امن سے متعلق میرے تمام اقدامات کی حمایت کی ہے، یہ بھارت ہے جو امن نہیں چاہتا۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیوں کہ بھارت کو اس وقت آر ایس ایس نظریات کی حامی جماعت کنٹرول کررہی ہے جو پاکستان اور مسلمان مخالف ہے اور اس کا مظاہرہ آپ نے کشمیر اور بھارت کے دیگر علاقوں میں دیکھا ہے کہ بھارت مسلمانوں کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کررہا ہے۔

پچھلا پڑھیں

پاکستان: قومی ہیرو علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سرپارہ نے دوسرے مرتبہ کے ٹو سر کر لیا

اگلا پڑھیں

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی بحرین کے ولی عہد شہزادہ سلمان بن حمد بن عیسی الخلیفہ سے ملاقات

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے