اقوام متحدہ کی زراعی تنطیم نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بتایا کہ 6 فروری کو آنے والے ہولناک زلزلے سے جہاں لکھوں گھر عمارتیں تباہ ہوئی وہاں ملک کو زرعی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔ رپورٹ کے مطابق زلزلے میں 11 زرعی صوبوں کو متاثر کیا جس سے 15 ملین افراد اور ملک کے 20 فیصد زرعی پیداوار کو نقصان پہنچایا ۔ دیہی علاقوں کے بہت سے مویشی ، فصلیں، ماہی گیر اور دیگر آبی زراعت اس زلزلے کی نذر ہو گے،
اقوام متحدہ کی زرعی تنظیم کےمطابق ترکیہ کا زرخیر ہلال،زرعی جی ڈی پی کا تقریباً 15 فیصد ہے اور ترکیہ زرعی برآمدات میں تقریباً 20 فیصد ڈالتا ہے۔ اس سب سے ترکیہ کو 1.3 ملین ڈالر کے نقصان کا سامنا ہے جبکہ زرعی شعبے کو 5 ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔
خیال رہے کہ 6 فروری کو ترکیہ میں 2 ہولناک زلزلے آئے جس کے نتیجے میں بڑی تباہی ہوئی اور ترک حکومت نے اسے صدی کی بڑی تباہی قرار دے دیا ۔ اس زلزلے سے جنوبی ترکیہ کہ 11 صوبے قہرانماراش، حطائے، آیامان،ادانا، کیلیس، ازیگ،ملاطیا، غازی انتیپ، عثمانیہ، سمیت دیگر شدید متاثر ہوئے اس تباہ کن زلزلے سے 50 ہزار افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہوئے اور لاکھوں گھر تباہ ہو گئے۔
