موسمیاتی تبدیلی سمیت دیگر معاملات پر امریکا کے ساتھ تعاون ختم کر رہے ہیں،چینی وزارت خارجہ

چین نے کہا ہے کہ امریکا کے ایوان نمائندگان کی اسپییکر نینسی پیلوسی کے حالیہ تائیوان کے دورے کے بعد وہ امریکا کے ساتھ متعدد دفاعی امور پر ملاقاتیں منسوخ کرنے کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی پر بھی اہم مذاکرات ختم کر رہا ہے۔

نینسی پیلوسی کے دورہ تائیوان پر چین کی سخت مخالفت کا حوالہ دیتے ہوئے چینی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ بیجنگ موسمیاتی تبدیلی پر چین-امریکا مذاکرات منسوخ کرنے جا رہا ہے جبکہ فوجی سربراہان کے درمیان ہونے والی دفاعی ملاقاتیں بھی منسوخ کی جارہی ہیں۔

چین اور امریکا دنیا کے دو سب سے بڑے کاربن خارج کرنے والے ممالک ہیں، جنہوں نے گزشتہ سال گلاسگو میں موسمیاتی تبدیلی پر ہونے والے 26 ویں سربراہی اجلاس میں حیرت انگیز طور پر ماحولیات سے متعلق معاہدہ متعارف کروایا تھا۔

دونوں ممالک نے عہد کیا تھا کہ وہ اس دہائی میں موسمیات سےمتعلق اقدامات تیز کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے اور موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے باقاعدگی سے ملاقاتیں کرنے کا بھی عزم کیا تھا۔

خیال رہے کہ چین نیم خودمختار جزیرے تائیوان کو اپنا حصہ تسلیم کرتا ہے اور اس نے عزم کیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ ایک دن طاقت کے استمعال سے اس پر قبضہ کرے گا۔

بیجنگ نے نینسی پیلوسی کے دورے کے بعد  شدید ترین دھمکیاں دیں اور فوجی مشقوں کے ساتھ رد عمل دیا ہے، جسے واشنگٹن اور تائیوان کے موجودہ آزادی کے حامی رہنماؤں کے درمیان تعلقات میں بدترین کشیدگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے  کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی، عدالتی مدد اور بین الاقوامی جرائم کے ساتھ ساتھ انسداد منشیات کی کارروائی پر واشنگٹن کے ساتھ تعاون ختم کر رہے ہیں۔

اس سے قبل وزارت خارجہ نینسی پیلوسی اور اس کے خاندان پر غیر معینہ مدت تک پابندیاں عائد کرنے کا بھی فیصلہ کر چکا ہے۔

Read Previous

بھارت میں حکومت مخالف احتجاج شدت اختیار کر گئے، گانگرس رہنما راہول گاندھی گرفتار

Read Next

ترکیہ کی غزہ میں اسرائیلی بمباری کی شدید مذمت

Leave a Reply