fbpx
ozIstanbul

طالبان کا شہریوں کو عام معافی اور خواتین کا حکومت میں شمولیت کا اعلان

طالبان نے پورے افغانستان میں شہریوں  کے لیے  ‘عام معافی’ کا اعلان کردیا اور خواتین کو حکومت میں شمولیت کا حق دینے کا اعلان کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق یہ بیان طالبان کے ثقافتی کمیشن کے رکن انعام اللہ سمنگانی کی جانب سے سامنے آئے۔

جہاں کابل میں زیادتیوں یا لڑائی جھگڑوں کی کوئی بڑی رپورٹس سامنے نہیں آئی ہیں وہیں بہت سے افراد گھروں میں ہی ہیں اور طالبان کے قبضے کے بعد جیل خالی اور اسلحہ لوٹے جانے کے بعد خوفزدہ ہیں۔

واضح رہے کہ 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے بعد افغانستان میں امریکی قیادت میں حملے سے قبل طالبان کے دور حکومت میں خواتین کو اسکول جانے یا گھر سے باہر کام کرنے سے روکا جاتا تھا۔

انہیں گھر سے نکلتے وقت برقعہ پہننا ضروری ہوتا تھا اور جب بھی وہ باہر جاتے تھے ان کے ساتھ ایک محرم کا ہونا لازمی تھا۔طالبان نے موسیقی پر پابندی لگا رکھی تھی، چوروں کے ہاتھ کاٹے اور زانیوں کو سنگسار کیا جاتا تھا۔

انعام اللہ نے کہا کہ افغانستان کے لیے امارت اسلامیہ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے کہا کہ امارت اسلامیہ نہیں چاہتی کہ خواتین متاثر ہوں، شرعی قوانین کے مطابق انہیں حکومتی اسٹرکچر میں ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘حکومت کا اسٹرکچر مکمل طور پر واضح نہیں ہے تاہم تجربے کی بنیاد پر ایک مکمل اسلامی قیادت ہونی چاہیے اور تمام فریقین کو اس میں شامل ہونا چاہیے’۔

انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی جس سے یہ تاثر جاتا ہے کہ لوگ پہلے ہی اسلامی قوانین کو جانتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگ مسلمان ہیں اور ہم انہیں اسلام پر مجبور کرنے کے لیے نہیں ہیں۔

طالبان نے حالیہ برسوں میں مزید اعتدال پسندی کی پیشکش کی ہے تاہم بہت سے افغان کو اس حوالے سے شکوک و شبہات ہیں۔

دریں اثنا منگل کے روز افغانستان کے لیے نیٹو کے سینئر سویلین نمائندے اسٹیفانو پونٹیکوروو نے ایک ویڈیو آن لائن پوسٹ کی حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر رن وے خالی دکھائی دیا اور ایک فوجی کارگو طیارہ وہاں فوٹیج میں زنجیر سے لگی باڑ کے پیچھے سے فاصلے پر دیکھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا کہ رن وے ‘کھلا ہے، میں نے ہوائی جہازوں کو اترتے اور پروان بھرتے دیکھا ہے’۔

گزشتہ رات کے فلائٹ ٹریکنگ کے ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ یو ایس میرین کور کے سی -130 جے ہرکولیس ہوائی اڈے پر موجود تھا اور بعد ازاں قطر کے لیے روانہ ہوا۔

افغان فضائی حدود میں دیگر کوئی پروازیں نظر نہیں آئیں۔

واضح رہے کہ پیر کے روز ہزاروں افغان کابل کے مرکزی ایئرپورٹ پر پہنچے اور چند لوگوں نے ایک فوجی طیارے کو پکڑ لیا جب وہ پروان بھر رہا تھا اور ان کی موت ہو گئی۔

امریکی حکام نے بتایا کہ افراتفری میں کم از کم 7 افراد ہلاک ہوئے۔

ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے کہا کہ پورے افغانستان میں لڑائی میں ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

سیکورٹی فورسز اور سیاستدانوں نے اپنے صوبوں اور اڈوں کو بغیر کسی لڑائی کے حوالے کردیا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ دنیا افغانستان میں ہونے والے پیش رفت کی پیروی کر رہی ہے جس کے بارے میں گہری تشویش ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے پیر کے روز کہا تھا کہ وہ امریکی افواج کے انخلا کے اپنے فیصلے کی ‘مکمل طور پر حمایت’ کے لیے کھڑے ہیں اور کابل میں سامنے آنے والی ‘انتشار پھیلانے والی’ تصویر کو تسلیم کرتے ہیں۔

جو بائیڈن نے کہا تھا کہ انہیں پہلے مذاکرات کے بعد حاصل کیے گئے معاہدے کا احترام کرنے یا تیسری دہائی کی جنگ شروع کرنے کے لیے ہزاروں فوجی واپس بھیجنے کے درمیان انتخاب کا سامنا کرنا پڑا۔

جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس سے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ ’20 سالوں کے بعد میں نے بہت مشکل سے یہ سیکھا ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کا کبھی اچھا وقت نہیں ہوگا’۔

طالبان اور افغان حکومت کے کئی عہدیداروں کے درمیان بات چیت جاری دکھائی دیتی ہے بشمول سابق صدر حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ جو کبھی ملک کی مذاکراتی کونسل کے سربراہ تھے۔

صدر اشرف غنی اس سے قبل طالبان کی پیش قدمی کے دوران ملک سے بھاگ گئے تھے اور ان کا ٹھکانہ نامعلوم ہے۔

مذاکرات کا براہ راست علم رکھنے والے ایک عہدیدار جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سینئر طالبان رہنما امیر خان متقی قطر سے کابل پہنچ چکے ہیں۔

 

پچھلا پڑھیں

آرمینیا کا بھارت کے ساتھ تعاون بڑھانے اور عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا فیصلہ

اگلا پڑھیں

صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کا تاریخی ڈرامہ سیریل کورولش عثمان کے سیٹ کا دورہ

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے