آرمینیا کا بھارت کے ساتھ تعاون بڑھانے اور دونوں ملکوں کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا فیصلہ
بھارت کے 75 ویں یوم آزادی کی تقریب سے آرمینیا کے قائم مقام وزیر خارجہ ارمن گریگورین کا خطاب
کاراباخ میں آذربائیجان کی شاندار فتح آج بھی آرمینیا کو یاد ہے۔ اس جنگ میں ترکی نے آذربائیجان کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا اور پاکستان نے آذربائیجان کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا۔
اس جنگ میں تینوں ملکوں کی دوستی اور تعلقات نے خطے کے کئی ممالک کو حیران کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب آرمینیا نے بھارت کے ساتھ دوستی بڑھانے اور دفاعی تعلقات کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں بھارت کے 75 ویں یوم آزادی کی ایک تقریب میں آرمینیا کے قائم مقام وزیر خارجہ ارمن گریگوری نے شرکت کی اور دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ارمن گریگورین نے کہا کہ آرمینیا اور بھارت کے عوام کے تعلقات خاصے گہرے ہیں۔ ان تعلقات میں نئی جہت 17 ویں اور 19 ویں صدی میں آئی جب آرمینیا کی کمیونٹی سے بڑی تعداد میں لوگ بھارت کے مختلف بڑے شہروں میں جا کر آباد ہوئے۔ آرمینیا کی کمیونٹی نے بھارت کی سماجی، سیاسی، معاشی اور ثقافتی شعبے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آرمینیا کے قائم مقام وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات کو قائم ہوئے بہت سال گزر چکے ہیں لہذا اب دونوں ملک صدیوں پرانے تعلقات اور دوستی کو باہمی اعتماد کے ساتھ ریاستی سطح پر فروغ دینا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا اور کاراباخ جنگ کے باعث بیشتر منصوبے مکمل نہ کئے جا سکے
ارمن گریگورین نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی، عسکری، معاشی، کاروباری اور ثقافتی شعببوں میں باہمی تعاون کے کئی مواقع موجود ہیں جن پر ابھی تک کام نہیں ہو سکا ہے۔ آرمینیا جموں کشمیر پر بھارت کی ہمیشہ سے حمایت کرتا رہا ہے اور یہ حمایت جاری رہے گی۔ آرمینیا بھارت کی اس پالیسی کا شکرگزار ہے جو آذربائیجان کے کاراباخ حملے پر اختیار کی گئی تھی۔ بھارت نے ہمیشہ آرمینیا کے موقف کی حمایت کی ہے۔ آذربائیجان نے علاقے میں غیر ملکی جنگجوؤں کو دعوت اور آرمینیا کے بارڈر پر ناجائز قبضہ کر لیا۔
آرمینیا کے قائم مقام وزیر خارجہ نے آرمینین انڈین انٹر گورنمنٹل کمیشن کو فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ دونوں ملکوں کے بزنس فورم کا اجلاس جلد بلایا جائے گا۔ دونوں ملکوں کی تاجر برادری کے درمیان انفارمیشن ٹیکنالوجی، دفاع، فارماسیوٹیکلز، زراعت، سیاحت، تعلیم، ثقافت اور دیگر شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آرمینیا بھارت کے نارتھ ساؤتھ انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ کوریڈور اور چہاہ بہار بندرگاہ کی ڈیولپمنٹ کے کام کو دیکھ رہا ہے اور چاہتا ہے کہ اسے بھی ان منصوبوں میں شامل کیا جائے۔
ارمن گریگورین نے کہا کہ دونوں ملکوں کے انسانی وسائل بہت زیادہ ہیں اور محنت کش افرادی قوت موجود ہے جس کی صلاحتیوں سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔
